| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نجد کی طرف کچھ سوار بھیجے ۱؎ وہ لوگ بنی حنیفہ کا ایک شخص پکڑ لائے جسے ثمامہ ابن اثال کہا جاتا تھا یعنی یمامہ والوں کا سردار ۲؎ تو اسے مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون سے باندھ دیا ۳؎ تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا تیرے پاس کیا ہے۴؎ اے ثمامہ وہ بولا اے محمد میرے پاس بھلائی ہے ۵؎ اگر آپ قتل کریں گے تو خون والے کو قتل کریں گے ۶؎ اور اگر آپ احسان کریں تو شکر گزار پرکریں گے ۷؎ اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب فرمایئے جو چاہیں گے حاضر کیا جائے گا ۸؎ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چھوڑ دیا ۹؎ حتی کہ کل کا دن ہوا تو فرمایا اے ثمامہ تیرے پاس کیا ہے وہ بولا میرے پاس وہ ہی ہے جو میں نے آپ سے عرض کیا کہ اگر احسان فرماؤ گے تو شکر گزار پر احسان فرماؤ گے اور قتل فرماؤ گے تو بڑے بھاری خون والے کو قتل فرماؤ گے اور اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب کیجئے حاضر کیا جائے گا جو آپ چاہیں گے اسے پھر حضور انور نے چھوڑ دیاحتی کہ پرسوں کا دن ہوا تو اس سے فرمایا کہ ثمامہ تیرے پاس کیا ہے وہ بولا میرے پاس وہ ہی ہے جو میں نے عرض کیا کہ اگر آپ احسان کریں گے تو شکر گزار پر کریں گے اور اگر قتل کریں گے تو بھاری خون والے کو قتل کریں گے اور اگر آپ مال چاہتے ہوں تو طلب کیجئے جو آپ چاہیں گے حاضر کیا جائے گا ۱۰؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ثمامہ کو کھول دو ۱۱؎ وہ مسجد کے قریبی باغ کی طرف گیا غسل کیا پھر مسجد میں آیا ۱۲؎ کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اﷲ کے بندے اس کی رسول ہیں اے محمد اللہ کی قسم مجھے روئے زمین پر کوئی چہرہ تمہارے چہرے سے زیادہ ناپسند نہ تھا اب آپ کا رخ انور تمام چہروں سے مجھے زیادہ پیارا ہوگیا۱۳؎ اﷲ کی قسم مجھے کوئی دین آپ کے دین سے زیادہ ناپسند نہ تھا مگر اب آپ کا دین مجھے تمام دینوں سے زیادہ پیارا ہوگیا ۱۴؎ اﷲ کی قسم کوئی شہر مجھے آپ کے شہر سے زیادہ ناپسند نہ تھا مگر اب مجھے آپ کی نگری تمام شہروں سے زیادہ پیاری ہوگئی ۱۵؎ اور آپ کے لشکر نے مجھے اس حال میں گرفتار کیا کہ میں عمرہ کا ارادہ کررہا تھا اب آپ کیا مناسب سمجھتے ہیں ۱۶؎ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کا حکم دیا ۱۷؎ تو جب وہ مکہ آئے تو ان سے کسی نے کہا کہ کیا تم بے دین ہوگئے ۱۸؎ وہ بولے نہیں لیکن میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایمان لے آیا ۱۹؎ اور خدا کی قسم یمامہ سے تمہارے پاس گندم کا ایک دانہ نہ پہنچے گا حتی کہ اس کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم دے دیں ۲۰؎(مسلم) اور بخاری نے اسے مختصرًا روایت کیا۔
شرح
۱؎ یہ واقعہ ہجری کا ہے۔نجد کے لغوی معنی ہیں اونچی زمین مگر اس سے مراد ہوتا ہے عرب کا ایک صوبہ کیونکہ یہ صوبہ یمن سے ہے نیچا۔حجاز،عراق،یمن،بحرین،نجد ان پانچ صوبوں کا نام عرب ہے باقی عجم۔ ۲؎ یمامہ نجد کے علاقہ میں ایک شہر ہے،مکہ معظمہ سے سولہ منزل ہے،یہاں ہی مسیلمہ کذاب پیدا ہوا تھا،بنی حنیفہ ایک قبیلہ کا نام ہے اسی قبیلہ میں مسیلمہ پیدا ہوا۔ ۳؎ مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تاکہ ثمامہ یہاں رہ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو آتے جاتے اٹھتے بیٹھتے دیکھےاور اسے ایمان میسر ہوجائے۔چنانچہ معلوم ہوا کون ہے جوغور سے حضور کو دیکھے اور ان پر فدا نہ ہو جائے۔ کفرواسلام کےجھگڑےتیرےچھپنے سےبڑھے تو اگر جلوہ دکھا دے تو تو ہی تو ہو جاوے اس سے معلوم ہوا کہ کافر کو مسجد میں آنا،اسے وہاں لانا وہاں رکھنا،وہاں باندھنا جائز ہے،ثمامہ عمومًا اس ستون سے بندھا رہتا تھا پیشاب یا پاخانہ کے لیے اسے باہر لے جایا جاتا تھا کھانا پانی وہاں ہی دیا جاتا ہوگا۔دھوپ کا تو وہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،غرضیکہ ثمامہ کو وہاں کوئی تکلیف نہ تھی،وہاں بندھے رہنے میں انہیں وہ لذت آتی ہوگی جو بیان سے باہر ہے۔دیکھتے جلوہ محبوب کا آتے جاتے۔اب تک لوگ اس ستون کی زیارت کرتے ہیں جس سے ثمامہ کو باندھا گیا تھا،ثمامہ وہاں تین دن بندھے رہے۔ ۴؎ یعنی تیرا حال کیا ہے تجھے کھانے پینے وغیرہ کی کوئی تکلیف تو نہیں یا تیرا ہمارے متعلق خیال کیا ہے ہم تجھ سے کیا برتاؤ کریں گے۔(اشعہ و مرقات)اس قید پر ہزاروں آزادیاں قربان۔ دیکھا انہیں محشر میں تو رحمت نے پکارا آزاد ہے جو آپ کے دامن سے بندھا ہے ۵؎ یعنی ہر طرح خیریت و آرام سے ہوں مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے صحابہ کرام میری راحت کا بہت خیال رکھتے ہیں یا حضور کے متعلق میرا خیال خیر ہے کیونکہ محسن ہیں آپ سے مجھے ظلم کا اندیشہ نہیں۔(مرقات) ۶؎ دم دال سے ہے بمعنی خون اور خون والے سے مراد ہےمستحق قتل یا شریف قوم یعنی اگر آپ مجھے قتل فرما دیں تو واقعی میں قتل ہی کا مستحق ہوں کہ آپ کے دشمنوں میں سے ہوں اس قتل میں آپ ظالم نہ ہوں گے یا آپ بڑے قیمتی خون والے کو قتل کریں گے کیونکہ میں اپنی قوم کا سردار ہوں سردار کا خون بڑا اہم ہوتا ہے۔ بعض روایات میں ذم نقطے والی ذال سے ہے بمعنی ذمہ اور عہد یعنی آپ بڑے ذمہ دار کو قتل کریں گے میں معمولی آدمی نہیں ہوں اپنی قوم کا ذمہ دار ہوں سردار ہوں مگر یہ روایت غیرمشہور سی ہے۔ ۷؎ یعنی اگر آپ مجھ پر احسان فرما کر مجھے چھوڑ دیں گے تو عمر بھر آپ کا شکرگزار رہوں گا،میں احسان فراموش نہیں ہوں،احسان مند رہوں گا۔ ۸؎ یعنی آپ مجھے فدیہ لے کر چھوڑنا چاہیں تو میں بہت بڑا مالدار قوم کا سردار ہوں میری قوم کو پیغام بھیجئے جتنا مال چاہیں گے آجائے گا۔ ۹؎ اس حال میں بندھا رہنے دیا نہ قتل کرایا نہ آزاد کیا نہ کوئی مطالبہ فرمایا،یہاں اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ ان دنوں میں حضور نے اس کے دل پر توجہ فرمائی باطن میں تصرف فرمایا اس کا نتیجہ تیسرے دن ظاہر ہوا۔ ۱۰؎ خیال رہے کہ ان تینوں دنوں میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سوال ایک ہی رہا مگر ثمامہ نے پہلے دن جواب میں قتل کا ذکر پہلے کیا احسان و مال کا ذکربعد میں مگر پچھلے دو دنوں کے جواب میں انعام و رحم خسروانہ کا ذکرپہلے کیا قتل کا ذکر بعد میں کیونکہ ثمامہ کی نظر پہلے دن اپنے جرم پرتھی اور دوسرے دنوں میں حضور کے رحم و کرم و احسان پر۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ مجرم کو چاہیے پہلے اپنے جرم کا اقرارکرے پھر استغفار،ثمامہ پر پہلے دن خوف غالب تھاباقی دنوں میں امید غالب،پہلے دن ثمامہ اجنبی تھا آخر دنوں میں رحم خسروانہ کرم شاہانہ سے آشنا ہوچکا تھا۔(ازمرقات) ۱۱؎ تین دن جمال کا نظارہ کراکے اپنی ادائیں دکھا کر فرمایا کہ ثمامہ کو آج قید سے آزاد کردو جہاں چاہیں جائیں مگر ثمامہ کا دل اپنی محبت میں قید کرلیا۔چڑیا کے پر کاٹ کر پنجرے سے نکال دو اور کہو جا اڑ جا مگر اب وہ اڑے کس چیز سے اڑنے والی چیز تو ختم ہوچکی۔صحابہ نے سوچا ہوگا کہ ثمامہ گئے مگر کہاں جاتے جانے کے قابل ہی نہ رہے۔ تال سوکھ پر بھٹ ہوا اور ہنسا کہیں نہ جائیں باندھے پچھلی پریت کے وہ کنکر چن چن کھائیں ہنس تالاب کے کنارہ رہتا ہے تالاب سوکھ جانے پر وہاں ہی مٹی چاٹ کر دم توڑ دیتا ہے مگر تالاب چھوڑکر نہیں جاتا۔ ۱۲؎ حضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ پہلے قیدکرکے لائے گئے تھے اب خود قید ہوکر آئے۔ گر کے قدموں پر وہ قرباں ہوگیا پڑھ لیا کلمہ مسلمان ہوگیا معلوم ہوا کہ اسلام لاتے وقت غسل کرنا سنت صحابہ ہے،بعض نسخوں میں نجل جیم سے ہے بمعنی تھوڑا یا بہتا ہوا پانی مگر قوی روایت نخل خ سے ہے یعنی وہ قریبی باغ میں گئے جس میں کچھ پانی تھا وہاں غسل کیا۔معلوم ہوا کہ جاری پانی سے وضو و غسل کرلینا جائز ہے مالک سے پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ اتنے پانی سے عمومًامنع نہیں کیا جاتا۔ ۱۳؎ چہرے سے مراد ذات ہے،چونکہ ملاقات کے وقت پہلے چہرہ ہی نظر آتا ہے اس لیے ذات کے لیے چہرہ ہی بول دیا جاتا ہے یعنی اب چند منٹ پہلے تک مجھے آپ سے بہت عداوت ونفرت تھی مگر قید سے چھوٹتے ہی میرے دل کی دنیا بدل گئی کہ میرا دل آپ کی محبت سے ایسا بھر گیا کہ اب جیسے آپ مجھے پیارے ہیں ایسا پیارا کوئی نہیں نہ ماں باپ نہ اولاد بلکہ نہ اپنی جان تمام چیزوں میں یہ سب داخل ہیں۔معلوم ہوا کہ جب دل میں ایمان آتا ہے تو پہلے محبت رسول آتی ہے یہ محبت رسول ہی اصلی ایمان ہے۔جنہوں نے حضور کو جادو گر کہا انہوں نے قرآن کو جادو کہا،جنہوں نے حضور کو کاہن یا شاعر(ناول گو)کہا انہوں نے قرآن کو کہانت اور شعر(ناول)کہا،جنہوں نے حضور کو رسول اﷲ کہا انہوں نے قرآن شریف کو کتاب اﷲ کہا،قرآن بلکہ رحمان کا پتہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں،آپ کی معرفت سے قرآن و رحمان تک پہنچا جاتا ہے۔ ۱۴؎ دین اسلام میں توحید،قرآن،حشرونشر،فرشتے،قیامت وغیرہ سب داخل ہیں یعنی آپ کی محبت سے مجھے ان تمام کی محبت نصیب ہوگئی۔گھر میں جب گھر والا آتا ہے تو مع سامان کے آتا ہے،محبت حضور صلی اللہ علیہ و سلم دلوں کی مکین ہیں اور یہ ساری محبتیں اس محبت کا سامان۔ ۱۵؎ یعنی اب مجھے مدینہ پاک کے گلی کوچے عرش و فرش کے ہر مقام سے زیادہ پیارے ہوگئے۔معلوم ہوا کہ مدینہ منورہ کی محبت علامت ایمان ہے وہاں کے ذرے دونوں جہان سے زیادہ پیارے ہیں۔ خاک طیبہ از دو عالم خوشتر است اے خنک شہرے کہ دروے دلبر است کہاں یہ مرتبے اﷲ اکبر سنگ اسود کے یہاں کےپتھروں نےپاؤں چومےہیں محمدکے یہ محبت مدینہ علامت ایمان اور ذریعہ نجات ہے،اﷲ نصیب فرمادے۔ من مذھبی حب الدیار لاھلہا وللناس فیما یعشقون مذاھب ۱۶؎ یعنی میں اپنے گھر سے عمرہ کرنے مکہ معظمہ جارہا تھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا،اب فرمائیں عمرہ کو جاؤں یا نہ جاؤں۔سبحان اﷲ! قدرت نے کہا ہوگا کہ اے ثمامہ مدینہ کے راستے سے مکہ معظمہ جاؤ،خود رب کعبہ سے ملنا ہو تو مدینہ کے راستے سے ملا جاتا ہے تو کعبہ کو بھی اسی راستہ سے جانا چاہیے۔ طیبہ سے نجف سے کربلا سے ملتے ہیں سب اہلِ دل خدا سے ثمامہ کی قوت ایمانی کا یہ حال ہوگیا کہ اب عمرہ بھی کرنا ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ کر،آپ فرمائیں تو عمرہ کروں ورنہ نہ کروں،ہر عبادت ان کی اجازت سے کی جائے تو عبادت ہے۔ ۱۷؎ پہلے جنت رضاء الٰہی کی خوشخبری دی بعد میں عمرہ کرنے کا حکم صادر فرمایا۔بتایا کہ اسلام کی برکت سے تمہارے سارے گناہ معاف ہوگئے،نیکیاں قبول ہوگئیں۔ ۱۸؎ صبوت بنا ہے صبو سے بمعنی میل اور جھک جانا۔علم سے جہالت اور دین سے بے دینی کی طرف جھک جانے کو صبو کہتے ہیں۔کفار مکہ اسلام لانے کو صبو اور مسلمانوں کو صابی کہتے تھے یعنی اے ثمامہ تم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑکر بے دین بن گئے۔ ۱۹؎ یعنی تم الٹی بات کہہ رہے ہو اب تک میں بے دین تھا اب دین والا ہوگیا،اب تک کافر تھا اب مؤمن ہوگیا،میں تو گویا اب پیدا ہوا۔یہاں ساتھ سے مراد زمانہ کی ہمراہی نہیں بلکہ دین میں ساتھ ہونا مراد ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس وقت کے مؤمن ہیں جب کہ عالم کی کوئی چیز نہ بنی تھی۔ ۲۰؎ چنانچہ ثمامہ نے یمامہ پہنچ کر حکم دے دیا کہ مکہ معظمہ گندم،جَو،کوئی غلہ نہ جانے پائے اور یمامہ کے غلہ پر ہی مکہ والوں کا گزارہ تھا،قریشی بھوکے مرنے لگے تب انہوں نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں خطوط اور آدمی بھیجے کہ خدا کا واسطہ اپنی رشتہ داریوں کا صدقہ آپ ثمامہ کو غلہ بھیجنے کا حکم فرمادیں ہم آخر ہیں تو آپ کے عزیزوقرابت دار تب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ثمامہ کو حکم دیا اور مکہ والوں کو روزی نصیب ہوئی۔فقہاء فرماتے ہیں کہ زمانہ جنگ میں کفار کو نہ ہتھیار فروخت کیے جائیں نہ غلہ۔اس سے کفار کو قوت حاصل ہوگی اور امن کے زمانہ میں اگرچہ غلہ انکے ہاتھ فروخت کیا جاسکتا ہے مگر ہتھیار پھر بھی نہ فروخت کرو۔کفار سے سلوک و احسان کرنا جائز ہے حتی کہ جنگی کافر قیدی کو بلامعاوضہ چھوڑ دینا بھی جائز ہے جب کہ اس میں مصلحت ہو۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عاص ابن ربیعہ کو احسان فرما کر چھوڑ دیا تھا یہ بدر میں قیدی ہوئے تھے،اس میں جو آئمہ اسلام کا اختلاف ہے وہ فقہ میں دیکھو۔اس حدیث سے بہت سے مسائل نکل سکتے ہیں جن میں سے کچھ ہم نے شرح کے دوران بیان کر دیئے،باقی تحقیق مرقات میں اس جگہ مطالعہ فرماؤ۔ثمامہ کی برکت سے بہت سے لوگ ایمان لے آئے۔