Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
855 - 1040
حدیث نمبر855
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ہوازن پر حملہ کیا ۱؎ تو ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ناشتہ کررہے تھے ۲؎  کہ اچانک ایک شخص سرخ اونٹ پرآیا اسے بٹھادیا اور لگادیکھنے اور ہم میں کمزور لوگ تھے اور سواریوں میں کمی تھی۳؎ اور ہمارے بعض پیدل تھے کہ وہ دوڑتا ہوا نکلا۴؎ اپنے اونٹ کے پاس آیا اسے اٹھایا اسے لے کر اونٹ دوڑ گیا تو میں دوڑتا ہوا نکلا حتی کہ میں نے مہار پکڑلی میں نے اسے بٹھالیا پھر میں نے اپنی تلوار سونت لی تو اس کے سر پر مار دی ۵؎ پھر میں اونٹ ہانک لایا جس پر اس کا سامان اس کے ہتھیار تھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم اور لوگ مجھے سامنے سے ملے تو فرمایا کہ اس شخص کو کس نے قتل کیا لوگوں نے کہا ابن اکوع نے حضور نے فرمایا اس کا سارا سامان انہیں کا ہے ۶؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس غزوہ کا نام غزوہ حنین ہے جو فتح مکہ کے بعد ۶ شوال ہفتہ ہی کے دن ہوا۔حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔فقیر نے اس کی زیارت کی ہے۔ہوازن اس قبیلہ کفار کا نام ہے جو وہاں مسلمانوں کے مقابل تھے پھر یہ مسلمان ہوگئے۔

۲؎ نتضحی ضحی سے بمعنی چاشت اس لیے چاشت کے وقت کی نماز کو صلوۃ الضحٰی کہتے ہیں۔بعض شارحین نے یہاں اس کے یہ معنی کیے ہیں۔یعنی ہم نماز چاشت پڑھ رہے تھے مگر قوی یہ ہی ہے کہ یہاں ناشتہ کا کھانا مراد ہے یعنی ہم لشکر والے حضور انور کے ساتھ ناشتہ میں مشغول تھے۔

۳؎ ضعفۃ ض کے فتحہ عین کے بھی فتحہ سے جمع ہے،ضعیف بمعنی کمزوری اور رقت کے معنی ہوتے ہیں پتلا پن،غلظ کا مقابل یہاں تنگی وکمی مراد ہے یعنی ہمارے پاس اس زمانہ میں سامان جنگ حتی کہ سواریوں کی بھی کمی تھی اور ہم لوگ جسمانی کمزور بھی تھے۔

۴؎ تاکہ ہماری اس کمزوری اور بے سامانی کی خبر ہمارے حریف کافروں کو دے کر انہیں ہمارے مقابلہ پر دلیر کرے یعنی میں تیزی سے اس کے پیچھے دوڑا حتی کہ اس کے اونٹ تک پہنچا آگے ہوکر اس کی مہار پکڑ کر روک لیا اﷲ اکبر یہ ہے اسلامی ہمت،آپ نے یہ خیال نہ کیا کہ وہ میرے مہار کو پکڑتے ہوئے مجھے قتل کرکے بھاگ جائے گا۔جو مرد میدان ہتھیلی پر سر رکھ لے وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔

۵؎ کہ وہ مرگیا،یہ تائید غیبی تھی کہ اس دوران میں اس نے آپ کو شہید نہ کردیا،اس کی ہمت ہی نہ پڑی من کان ﷲ کان اﷲ لہ۔اس سے بھی معلوم ہوا کہ جاسوس کا قتل جائز ہے اور جاسوس کے ثبوت کے لیے صرف علامات ہی کافی ہیں،باقاعدہ گواہیوں کی ضرورت نہیں۔آج بھی جس کے پاس خبر رسانی کے آلات پائے جاتے ہیں اسے جاسوس مان لیا جاتا ہے۔

۶؎ یعنی صرف اس کا لباس ہی نہیں بلکہ ہتھیار،لباس،زیور،سواری،کاٹھی وغیرہ جو کچھ اس مقتول کے پاس تھا سب ان کو دے دو اور اس میں خمس بھی نہ لیا جائےیہ ہی ہمارا مذہب ہے کہ قاتل غازی کو کافر مقتول کا سارا مال دیا جائے اس میں خمس نہیں۔
Flag Counter