| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس مشرکوں کا ایک جاسوس آیاجب کہ حضور سفر میں تھے تو حضور کے صحابہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا پھر چل دیا ۱؎ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے تلاش کرو اور اسے قتل کردو ۲؎ میں نے قتل کردیا تو حضور نے اس کا سامان مجھے بخش دیا ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی مسلمانوں کے حالات دیکھ کر ان کے آئندہ ارادے معلوم کرکے ان کی باتیں سن کر مشرکوں کی طرف مخبری کرنے روانہ ہوگیا۔ ۲؎ یہ جاسوس یا تو حربی کافر تھا جو بغیر اجازت دارالاسلام میں گھس آیا تھا یا کوئی ذمی کافر تھا جو حربی کفار کی جاسوسی کی وجہ سے اپنا ذمہ توڑ چکا تھا،یہ دونوں قسم کے کفار قتل کے مستحق ہیں آج کل بھی اس پر عمل ہے۔اگر مسلمان کفار کی جاسوسی کرے تو اسے قتل تو نہ کیا جائے گا مگر اسے سزا ایسی سخت دی جائے گی کہ آئندہ جاسوسی کی ہمت نہ کرے۔(مرقات)لیکن اگر کوئی مسلمان کفار کو لشکر اسلام کا پتہ بتائے ان پر گولہ باری کرا کر کفار کے ہاتھوں لشکر اسلام کو قتل کرادے تو یقینًا قتل ہوگا۔مسلمان کو قتل کرنا،قتل کرانا،قتل کا سبب بننا،مسلم قوم کو تباہ کرنا ان سب کی سزا قتل ہے۔ ۳؎ یعنی اس مقتول جاسوس کا سارا سامان گھوڑا جوڑا ہتھیار اس کے جسم کا سونے چاندی کا زیورغرضیکہ ساری چیزیں قاتل یعنی حضرت سلمہ ابن اکوع کو عطا فرمائیں۔اس مسئلہ کی بحث ان شاءالله اپنے مقام پر آئے گی۔اس میں جو آئمہ دین کا اختلاف ہے وہاں ہی مذکور ہوگا۔ان شاءالله!یہاں صرف یہ سمجھ لو کہ جہاد میں قاتل کو مقتول کا سامان بغیر خمس نکالے ہوئے دے دینا امام شافعی کے ہاں اسلامی قانون ہے کہ بہرحال دینا ہی پڑے گا اور ہمارے ہاں اگر امام اس کا اعلان کردے تو دینا واجب ہے ورنہ نہیں۔