روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اﷲ اس قوم سے خوش ہوتا ہے جو پابہ جولان جنت میں داخل ہوتے ہیں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کی طرف زنجیروں میں کھینچ کر لائے جاتے ہیں ۲؎(بخاری)
۱؎ اس طرح کہ جنگ میں گرفتار ہو کر آتے ہیں،پھر مسلمانوں کے اخلاق و عبادات سے اثر لے کر مسلمان ہوجاتے ہیں،پھر رب تعالٰی انہیں حسن خاتمہ نصب فرماکر جنت میں داخل فرمادیتا ہے۔یہ اسیری ان کی دوزخ سے رہائی جنت میں داخلہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
۲؎ سرکار کا یہ فرمان عالی بدر کے قیدیوں کو ملاحظہ فرماکر تھا کہ وہ تمام ہی مسلمان بلکہ مسلمان گر ہوگئے۔ حضرت عباس حضرت ابوالعاص وغیرہم اسی دن ہی ایمان لے آئے تھے اگرچہ بعض نے اظہار ایمان فتح مکہ کے دن کیا۔غرضیکہ ان کے لیے یہ قیدوبند اﷲ کی رحمت ہوگئی۔(از اشعہ)اس فرمان کی اور شرحیں بھی کی گئیں۔ بعض لوگ دنیاوی مصیبتیں دیکھ پاکر توبہ کرکے جنتی ہوجاتے ہیں ان کے لیے یہ مصیبتیں زنجیریں ہیں جن کے ذریعہ رب انہیں جنت کی طرف کھینچتا ہے۔