Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
848 - 1040
حدیث نمبر848
روایت ہے حضرت رباح ابن ربیع سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک جہاد میں تھے تو حضور نے لوگوں کو کسی چیز پر جمع دیکھا ۲؎ تو حضور نے بھی ایک شخص کو فرمایا دیکھو یہ لوگ کس چیز پر جمع ہوئے ہیں وہ آیا بولا ایک مقتولہ عورت پر۳؎  تو فرمایا کہ یہ عورت تو جنگ نہ کرتی تھی۴؎ اور مقدمہ پر خالد ابن ولید تھے تو حضور نے ایک شخص کو بھیجا فرمایا خالد سے کہو کہ نہ تو کسی عورت کو قتل کریں نہ مزدور کو ۵؎(ابوداؤد)۶؎
شرح
۱؎  رباح ر کے فتحہ سے اور ب سے ہے،آپ صحابی اسدی ہیں،حضرت حنظلہ کاتب کے بھائی ہیں،آپ سے ابوداؤد نسائی نے صرف یہ ہی ایک حدیث نقل کی۔(اشعہ)

۲؎ غالبًا جہاد ختم ہوچکا تھا یا کچھ دیر کے لیے جنگ بند ہوئی تھی ورنہ عین جنگ میں لوگ کسی جگہ اس طرح جمع نہیں ہوا کرتے۔

۳؎ یعنی کافرہ عورت مسلمان غازیوں کے ہاتھ قتل ہوئی ہے،اس کی نعش پر لوگ جمع ہیں۔خیال رہے کہ لفظ قتیل مذکر مؤنث دونوں کے لیے بولا جاسکتا ہے،یہاں مؤنث کے لیے بولا گیا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ کافرہ عورت کا احترام یا پردہ نہ زندگی میں ہے نہ بعد موت۔لہذا اس کی نعش اجنبی مسلمان مرد دیکھ سکتے ہیں لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ ان صحابہ نے اس عورت کی نعش کو کیوں دیکھا۔

۴؎ یعنی یہ عورت نہ تو کفار کی ملکہ تھی نہ سپہ سالار،نہ مردوں کے دوش بدوش لڑنے والی پھر اسے کیوں قتل کیا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ اگر کافرہ عورت ملکہ یا لڑانے والی یا مسلمانوں سے لڑنے والی ہو تو اسے ضرور قتل کیا جائے،یہ عورت اپنے خاوند یا دوسروں کی خدمت کے لیے آئی ہوگی۔

۵؎  عورت و مزدور سے مراد وہ ہی ہے جو جنگ میں حصہ نہ لیتے ہوں فوج یا کسی فوجی کی خدمت کے لیے آئے ہوں۔انکی علامت یہ ہوتی ہوگی کہ ان پر سامان جنگ نہ ہوگا اور خدمت کے اسباب یا علامات ہوں گے۔سبحان اﷲ! اسلام میں  کیسا عدل و انصاف ہے کہ لڑتے وقت بھی عدل کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔

۶؎ اس حدیث کو نسائی،ابن ماجہ،احمد،ابن حبان،حاکم نے بھی کچھ فرق سے نقل فرمایا۔یہ حدیث صحیح ہے مسلم،بخاری کی شرط پر ہے۔(مرقات)
Flag Counter