۱؎ یعنی ایک بار حضور انور نے صحابہ کرام کو جہاد کے لیے بھیجا انہیں رخصت فرماتے وقت یہ دعائیں اور نصیحتیں کیں۔
۲؎ بڈھے سے مراد وہ ہی بڈھا ہے جو جنگجو کفار کو جنگی تدبیریں نہ بتاتا ہو ورنہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہوازن کی جنگ میں زید ابن صمہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔زید ابن صمہ کی عمر اس وقت ایک سو بیس سال تھی کیونکہ وہ لڑرہا تھا۔(مرقات)
۳؎ بچہ سے مراد نابالغ بچہ ہے یہاں بھی یہ ہی قید ہے کہ بچہ نہ تو کفار کا بادشاہ ہو نہ جرنیل وغیرہ نہ سپاہی بلکہ جنگ سے بے تعلق ہو۔
۴؎ یعنی ہر غازی اپنی حاصل کردہ غنیمت علیٰحدہ نہ رکھے بلکہ ملا کر سپہ سالار کے سپرد کردے آپس میں ایک دوسرے سے اچھا سلوک کرے۔مجاہدوں کی جان ایک ہو جسم الگ الگ،مسلمانوں کا آپس میں لڑنا بھڑنا ہر وقت ہی برا ہے مگر ایسی حالت میں بہت خطرناک ہے۔
۵؎ فقہاء فرماتے ہیں کہ کفار کے بچے،دیوانے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے،ان کے پنڈت جوگی جو جنگ سے بے تعلق ہوں قتل نہ کیے جائیں۔موطا امام مالک میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق نے شام پر لشکر کشی کی جس کے سپہ سالار یزید ابن ابوسفیان تھے تو آپ نے فرمایا کہ اے یزید میں تم کو دس چیزوں کی وصیت کرتا ہوں:کسی بچہ کو،عورت کو،بڈھے کو قتل نہ کرنا۔پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،گائے بکری کو ذبح نہ کرنا مگر کھانے کے لیے،آبادی کو نہ جلانا نہ ویران کرنا،قیدی کفار کے اہل قرابت کو جدا نہ کرنا،بزدلی نہ کرنا،خیانت نہ کرنا۔(مرقات)موجودہ کفار اسی فرمان صدیق میں غور کریں اور آج کل کی وحشیانہ جنگوں کو دیکھیں۔