Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
841 - 1040
حدیث نمبر841
روایت ہے حضرت مہلب سے ۱؎  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر دشمن تم پر شب خون مارے تو تمہارا نشان ۲؎ حم لاینصرون۳؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ مہلب میم کے پیش لام کے شد سے،آپ مہلب ابن صفرہ ازدی ہیں،تابعی ہیں،فتح مکہ کے سال پیدا ہوئے، عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں ۸۳ھ؁  ہجری میں علاقہ خراسان میں مقام مرو میں انتقال ہوا،بصرہ میں قیام رہا،خوارج سے آپ کی بہت لڑائیاں ہوئیں،حضرت سمرہ اور ابن عمر سے ملاقات ہے رضی اللہ عنہم لہذا یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ اس میں صحابی سے روایت نہیں تابعی نے کہا کہ حضور نے یہ فرمایا۔

۲؎  شعار بنا ہے شعر سے،اسی سے ہے شعور بمعنی پہچان،علامت،نشان۔شب خون مارتے وقت اندھیرے کی وجہ سے اپنے پرائے کی پہچان نہیں ہوتی اس لیے ہم بھی اور دشمن کی فوج بھی اپنے اپنے لیے کوئی نشان مقرر کرلیتے تھے تاکہ ہمارے ہاتھوں اپنا ہی آدمی دھوکے سے نہ مارا جائے،وہ نشان کچھ الفاظ مقرر ہوتے تھے جسے لڑتے وقت بولتے جاتے تھے ان الفاظ کا شعار اس زمانہ میں(کوڈ ورڈ)کہتے تھے،یہ تعلیم غزوہ خندق کے موقعہ پر ہوئی تھی۔(مرقات)

۳؎ حٰمٓ آیت قرآنیہ ہے جو بعض سورتوں کے اول میں ہے یا اﷲ تعالٰی کا نام ہے اور لاینصرون دعائیہ کلمہ ہے۔یعنی حٰمٓ کی برکت سے کفار بے مدد گار ہیں اے الہ العالمین کفارکو بے یارکردے ہم کو ان پر فتح نصیب فرمایا،اے اﷲ سات حٰمٓ والی سورتوں کے صدقہ سے کفار بے مددگار بنادے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حٰمٓ والی سورتیں بہت شاندار ہیں۔خیال رہے کہ حٰمٓ میں دو حرف ہیں:ح اور میم۔ح ان اسماء الہیہ کی طرف اشارہ ہے جن کے اول میں ح ہے جیسے حمید،حسنان،حکیم،حلیم،حنان،حی اور میم سے ان اسماء الہیہ کی طرف اشارہ ہے جن کے اول میں میم ہے جیسے مجید،منان،مالك،ملك،مقتدر،مؤمن، مہیمن وغیرہ۔اس حٰمٓ سے ان تمام اسماء الہیہ کی توسل سے دعا ہوگئی۔روضۃ الاحباب میں ہے کہ غزوہ خندق کے موقعہ پر مہاجرین کا شعار یاخیل اﷲ تھا تو یہ شعار انصار کا ہوگا۔(مرقات)
Flag Counter