Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
84 - 1040
حدیث نمبر 84
 روایت ہے حضرت علی سے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ کیا آپ کو اپنے چچا حمزہ کی بیٹی میں رغبت ہے وہ قریش میں حسین ترین لڑکی ہے ۱؎ تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تمہیں علم نہیں کہ حمزہ میرے دودھ کے بھائی ہیں ۲؎ اور یہ کہ اﷲ نے دودھ کے رشتہ سے وہ عورتیں حرام کیں جو نسب سے حرام فرمائیں ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی درہ بنت حمزہ آپ کی چچا زاد قریبی بھی ہے اور قریش میں بہت حسینہ و جمیلہ و خوب سیرت بھی اس سے آپ کا نکاح بہت موزوں ہوگا۔

۲؎ کیونکہ ابولہب کی لونڈی بی بی ثویبہ نے اولًا حضرت حمزہ کو دودھ پلایا پھر چار سال کے بعد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا، معلوم ہوا کہ شیر کی حرمت میں ایک ساتھ دودھ پینا شرط نہیں بلکہ ایک پستان کا دودھ ہونا کافی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو چار عورتوں نے دودھ پلایا: والدہ مطہرہ آمنہ خاتون،ثویبہ،ام ایمن،حلیمہ سعدیہ اور تمام دودھ پلانے والیاں ایمان لائیں،تین بیبیاں تو اپنی زندگی میں ہی اور حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کو حضور نے زندہ فرما کر انہیں کلمہ پڑھایا شرعی مؤمنہ و صحابیہ بنایا۔( مرقات،نقلًا عن سیوطی)

۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حمزہ میرے چچا بھی ہیں اور شیر کے بھائی بھی اور دودھ کے بھائی بیٹی حرام ہوتی ہے کہ وہ بھتیجی ہے لہذا درہ بنت حمزہ پر حرام ہیں۔
Flag Counter