۱؎ یعنی درہ بنت حمزہ آپ کی چچا زاد قریبی بھی ہے اور قریش میں بہت حسینہ و جمیلہ و خوب سیرت بھی اس سے آپ کا نکاح بہت موزوں ہوگا۔
۲؎ کیونکہ ابولہب کی لونڈی بی بی ثویبہ نے اولًا حضرت حمزہ کو دودھ پلایا پھر چار سال کے بعد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا، معلوم ہوا کہ شیر کی حرمت میں ایک ساتھ دودھ پینا شرط نہیں بلکہ ایک پستان کا دودھ ہونا کافی ہے۔خیال رہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو چار عورتوں نے دودھ پلایا: والدہ مطہرہ آمنہ خاتون،ثویبہ،ام ایمن،حلیمہ سعدیہ اور تمام دودھ پلانے والیاں ایمان لائیں،تین بیبیاں تو اپنی زندگی میں ہی اور حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کو حضور نے زندہ فرما کر انہیں کلمہ پڑھایا شرعی مؤمنہ و صحابیہ بنایا۔( مرقات،نقلًا عن سیوطی)
۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت حمزہ میرے چچا بھی ہیں اور شیر کے بھائی بھی اور دودھ کے بھائی بیٹی حرام ہوتی ہے کہ وہ بھتیجی ہے لہذا درہ بنت حمزہ پر حرام ہیں۔