| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میرے دودھ کے چچا آئے اور میرے پاس آنے کی اجازت مانگی۱؎ میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کیا تاآنکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لوں پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے حضور سے پوچھا فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں،اجازت دے دو ۲؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مرد نے نہیں پلایا۳؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے چچا ہیں تمہارے پاس آسکتے ہیں۴؎ یہ واقعہ ہم پر پردہ فرض ہونے کے بعد کا ہے۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ان آنے والے حضرت کا نام افلح تھا، کنیت ابوالجعد ہے ابو قعبس کے بھائی،ابو قعبس کی بیوی نے حضرت عائشہ صدیقہ کو دودھ پلایا تھا۔ ۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ دودھ کی ماں کا وہ خاوند جس سے یہ دودھ وہ مرد وہ پینے والا بچہ کا باپ بن جاتا ہے اور اس کا بھائی چچا اس کا والد دادا۔ فقہاء اسے کہتے ہیں لبن الفحل۔ ۳؎ ام المؤمنین سمجھیں کہ دودھ سے حرمت آتی ہے اور دودھ تو عورت کا ہے لہذا اس کے اقارب حرام ہونے چاہئیں نہ کہ اس کے خاوند کے اس لیے یہ سوال کیا۔ ۴؎ خلاصہ جواب یہ ہے کہ دودھ اگرچہ اس ماں کا ہے مگر اس کے خاوند سے ہے اس لیے دو طرفہ حرمت ہوگی،سبحان اﷲ کیا فلسفیانہ و حکیمانہ جواب ہے۔ ۵؎ لہذا یہ حکم آیت حجاب سے منسوخ نہیں یہ حکم محکم ہے۔