Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
839 - 1040
حدیث نمبر839
روایت ہے حضرت ابی اسید سے ۱؎  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم سے بدر کے دن فرمایا ۲؎  جب کہ ہم نے قریش کے مقابل صفیں باندھیں ۳؎  اور انہوں نے ہمارے مقابل صف آرائی کی کہ جب تم سے قریب ہوں تو تیر لو۴؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ تم سے قریب ہوں تو انہیں تیرمارو اور اپنے تیر باقی رکھو ۵؎(بخاری)اور حضرت سعد کی حدیث ھل تنصرون الخ باب فضل الفقراء میں ہم بیان کریں گے اور حضرت براء کی حدیث بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الخ(ان شاءالله)باب المعجزات میں ہم بیان کریں گے ۶؎
شرح
۱؎ آپ مالک ابن ربیعہ انصاری ساعدی۔(اشعہ)تمام غزوات میں حاضر ہوئے،اٹھہتر سال کی عمر پائی ۶۰ساٹھ ہجری میں وفات پائی،آپ سے بہت حضرات نے احادیث نقل کیں۔

۲؎ یعنی جب کفار قریش تم سے اتنے قریب ہوجائیں کہ تمہارے تیر ان تک پہنچ سکیں تو تیر استعمال کرو بہت دور ہوں تو استعمال نہ کرنا کہ اس میں تیر ضائع ہوجائیں گے۔سہمدرمیانی تیر کو کہتے ہیں،بہت لمبے تیر کو نشاب کہا جاتا ہے،کثب کے معنی ہیں قرب۔(مرقات واشعہ)

۳؎  یعنی سارے تیر استعمال کرکے خود خالی نہ ہوجاؤ کہ کیا خبر کب تیروں کی ضرورت پڑجاوے۔اب بھی لڑائیوں میں ان دونوں قانون پر عمل ہوتا ہے کہ دشمن زد میں ہوجاوے تب گولہ باری کی جاتی ہے اور سارے گولے خرچ نہیں کردیئے جاتے سامان جنگ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

۴؎ یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں ہم مناسبت کا خیال کرتے ہوئے پہلی حدیث تو باب الفقراء میں بیان کریں گے اور دوسری حدیث باب المعجزات میں۔
Flag Counter