| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بنی نضیر کے کھجوروں کے درخت کٹوائے اور جلوا دیئے ۱؎ اس کے متعلق حضرت حسّان کہتے ہیں ۲؎ بنی لوی کے سرداروں پر وہ آگ آسان ہوگئی جو بویرہ میں پھیل گئی۳؎ اور اسی کی بارے میں یہ آیت اتری کہ تم نے جو درخت کھجور کے کاٹ ڈالے اور جو ان کی جڑوں پر قائم چھوڑ دیئے وہ اﷲ کے حکم سے ہے۴؎(بخاری،مسلم)
شرح
۱؎ نبی قریظہ اور بنی نضیر یہود مدینہ کے دو قبیلے ہیں جن سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر جانبدار رہنے کا معاہدہ فرمایا تھا مگر انہوں نے بدعہدی کی ان کی بدعہدی کی وجہ سے غزوہ خندق کا واقعہ پیش آیا،اس غزوہ سے فارغ ہوکر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے محلوں کا محاصرہ فرمالیا،وہ لوگ اپنے محلوں قلعوں میں گھس کر بیٹھ رہے تھے،آخر کار وہ قلعوں سے اترے،بنی قریظہ قتل کیے گئے اور بنی نضیر جلا وطن کردیئے گئے،حضور انور نے بنی نضیر کے نخلستان یا تو اس لیے اجاڑ دیئے کہ ان کے مکانات ان باغوں میں گھرے ہوئے تھے راستہ صاف کرنے کو یہ اجاڑے گئے یا اس لیے کہ وہ لوگ اپنے یہ باغ اجڑتے دیکھ کرگھبرا کر باہر نکلیں اور گرفتار کرلیے جائیں۔اس کا پورا واقعہ قرآن مجید سورۂ احزاب شریف میں مذکور ہے۔ ۲؎ حضرت حسان کے پورے حالات ہم مرآت جلد اول میں لکھ چکے ہیں کہ آپ حضور کے شاعر اور نعت خواں صحابی ہیں،آپ، آپ کے والد آپ کے دادا آپ کے پر دادا تمام کی عمریں ایک سو بیس سال ہوئیں،سوائے آپ کے کسی میں عمروں کا یہ اجتماع نہ ہوا۔ ۳؎ بویرہ تصغیر ہے بور کی،بور بنی نضیر کے اس باغ کا نام تھا جو اجاڑا گیا۔سراۃ جمع ہے سری کی بمعنی سردار۔سری بنا ہے سروۃٌ سے بمعنی سرداری۔لوی لام کے پیش واؤ کے فتحہ سے قریش کے اجداد میں سے ایک دادا کا نام ہے یعنی قریش پر یہ سخت آگ آسان ہوگئی کہ انہوں نے بہ آسانی اس باغ کو جلتے ہوئے دیکھ لیا یا سن لیا اور کچھ نہ کرسکے،حالانکہ عربوں کو کھجوروں کے باغ بڑے پیارے ہیں،وہ ان کا جل جانا کٹ جانا کسی طرح گوارہ نہیں کرتے مگر اس وقت بے بس تھے کچھ نہ کرسکے۔ ۳؎ اس باغ کے اجاڑنے پر بعض کفار بولے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم فساد سے منع فرماتے ہیں اور خود ہی فساد کی اجازت دیتے ہیں،باغ اجاڑنے سے بڑھ کر فساد کون سا ہوسکتا ہے۔تب ان کے جواب میں یہ آیت کریمہ اتری جس میں فرمایا کہ میرے محبوب اور ان کے صحابہ نے یہ جو کچھ کیا ہمارے حکم سے کیا ہم ان کے اس عمل سے راضی اور خوش ہیں۔سبحان اﷲ! یہ ہے کرم خداوندی حضور کے صحابہ پر کہ کام ہے صحابہ کا نام ہے رب کا۔شعر سنگریزہ می زند دست جناب ما رمیت ازرمیت آید خطاب تا ابد گر شرح ایں مفصل کنم جز تحیر ہیچ نہ بود حاصلم اس سے معلوم ہوا کہ جہاد میں کفار کے باغوں مکانوں کا اجاڑ دینا جائز ہے جب ان میں مصلحت ہو کہ اس کے بغیر فتح نہ ہوسکے،اگر اس کے بغیر فتح ممکن ہو تو یہ کام ہرگز نہ کیے جائیں کہ بعد فتح یہ سب چیزیں مسلمانوں کی ملک ہوں گی۔