۱؎ آپ لیثی ہیں،دوان اور ابواء میں رہتے تھے،ابوبکر صدیق کے زمانہ میں وفات پائی۔
۲؎ یعنی شب خون مارنا رات کے اندھیرے میں کفار پر حملہ کردینا جائز ہے،مگر اس وقت جوان کافروں کے مارنے کی نیت کرو،عورتیں بچے اگر اندھیرے میں تمہارے ارادہ کے بغیر مارے جائیں تو تم پر گناہ نہیں کہ وہ بھی کفار کے حکم میں ہیں۔بہرحال کفار کے عورتوں بچوں کو قتل کی ممانعت ارادۃً قتل سے تھی یہاں اجازت بغیر ارادۂ قتل کی ہے لہذا ان احکام میں تعارض نہیں۔جیسے کفار کے ملک میں رہنے والے مسلمانوں کو قتل کرنا حرام ہے لیکن اگر اس شبِ خون مارنے میں وہ بھی قتل ہوجائیں یا کفار مسلمان بچوں یا مسلمانوں کو اپنے آگے رکھ لیں تو ان پر تیر اندازی،گولہ باری جائز ہے مگر کفار کو قتل کرنے کی نیت سے کی جائے اگرچہ وہ مسلمان بھی اس سے ہلاک ہوجائیں کیونکہ مجاہدین ان وجوہ سے جہاد نہ کریں تو اسلام کی بقا کیونکر ہوگی۔ اس کی مفصّل بحث فتح القدیر اور مرقات میں ملاحظہ کرو۔