۱؎ یہ ہے مسلمانوں کا جہاد۔حضرت ابوبکر صدیق نے جب یزید ابن ابوسفیان کو شام کے جہاد پر بھیجا تو فرمایا کہ کفار کے بچوں عورتوں بڈھوں راہبوں(جو گیوں)وغیرہم کو قتل نہ کرنا صرف انہیں قتل کرنا جو تم سے لڑنے کے لیے مقابلہ میں آئیں۔(مرقات)مگر خیال رہے کہ اگر راہب جوگی یا بڈھے یا عورتیں کفار کو جنگ میں مدد دے رہے ہوں تو انہیں قتل کیا جائے گا کہ اب وہ مقاتل ہیں۔اس کی تحقیق کے لیے کتب فقہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔اب لڑائیوں میں پہلے بے قصور عورتیں بچے ہی بم باری سے ہلاک ہوتے ہیں،جنگ صرف میدان جنگ میں ہوتی تھی اب ہر بستی ہر گھر میں ہوتی ہے۔