۱؎ آپ کا نام نسیبہ بنت کعب ہے،انصاریہ ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوات میں آپ بہت زیادہ گئی ہیں۔
۲؎ معلوم ہوا کہ آپ جنگ نہ کرتی تھیں بلکہ غازیوں کی یہ خدمات انجام دیتی تھیں اس تفصیل سے جو ابھی گزری کہ کھانا عام غازیوں کے لیے پکاتی تھیں مگر دوا مرہم پٹی اپنے محرم رشتہ داروں کی کرتی تھیں یا عام غازیوں کی مگر پردہ کے ساتھ بغیر انہیں ہاتھ لگائے۔غرضیکہ اس حدیث کو اس زمانہ کی بے پردگی آوارگی اور عورتوں کی آزادی پر دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔
۳؎ یہ عورتوں کا جہادوں میں جانا سخت ضرورت کے وقت تھا لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں ہے" وَقَرْنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ"اے نبی کی بیبیو اپنے گھروں میں رہو۔