Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
833 - 1040
حدیث نمبر833
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ام سلیم ۱؎  اور کچھ انصاری بیبیوں کو لے کر جہاد فرماتے تھے جب جہاد کرتے تھے تو یہ بیبیاں پانی پلاتی تھیں زخمیوں کی دوا دارو کرتی تھیں ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ ام سلیم بنت ملحان ہیں میم کے کسرہ سے،آپ کے نام میں اختلاف ہے۔پہلے مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں انہیں سے حضرت انس پیدا ہوئے،مالک کے قتل ہوجانے کے بعد بیوہ ہوگئیں اور مسلمان ہوگئیں ،ابو طلحہ نے آپ کو اپنے سے نکاح کرلینے کا پیغام دیا،آپ بولیں کہ میں مسلمان ہوں تم مشرک نکاح کیسا۔اگر تم مسلمان ہوجاؤ تو میں تم سے مہر بھی نہیں مانگتی تمہارا اسلام ہی میرا مہر ہوگا اور میں تم سے نکاح کرلوں گی،حضرت ابوطلحہ کے مسلمان ہوجانے پر آپ ان کے نکاح میں آئیں،بڑی جلیل الشان صحابیہ ہیں،۔آپ کا نام رمامہ یا ملیکہ یا غمیصہ یارمیصاء ہے۔

۲؎  یعنی زخمی مجاہدوں کو پانی پلانا اور دوا دارو کرنا ان کی روٹی وغیرہ پکانا ان بیبیوں کا کام تھا یا تو اپنے خاوندوں کی خدمات کرتی تھیں یا اپنے دوسرے محرم رشتہ داروں کی اور اگر اجنبی غازیوں کی یہ خدمات کرتی تھیں تو باپردہ رہ کر بغیر ان کے جسموں کو ہاتھ لگائے۔فتح القدیر میں فرمایا کہ اگر عورتوں کو جہاد میں لے جانے کی ضرورت پڑے تو بوڑھی عورتوں کو لے جایا جائے،اگر جوانوں کی ضرورت درپیش ہو تو لونڈیوں کو لے جایا جائے مگر ان سے جنگ نہ کرائی جائے کہ اس میں مسلمانوں کی ذلت ہے،ہاں اگر سخت ضرورت پڑ جائے تو قتال بھی کرسکتی ہیں جیسے غزوہ حنین میں خود ام سلیم نے جنگ کی ہے۔(مرقات)ضروریات کا حکم اور ہے۔غرضیکہ عورتوں کو جہاد میں جانا ان سے جنگ کرانا سخت ضرورت کے وقت ہے۔
Flag Counter