۱؎ خدعہ خ کے فتحہ یا پیش سے،کسرہ سے بھی آتا ہے مگر کم یعنی جنگ کی جان دشمن کو دھوکہ میں رکھنا ہے کہ اسے ہمارے اصلی ارادہ اور اصلی حال پر خبر نہ ہونے پائے،اپنی تھوڑی سی جماعت کو بہت ظاہر کیا جائے تھوڑے سامان کو بے شمار دکھایا جائے یہ جنگی کمال اور مجاہد کی چال ہے۔کسی میدان کو خالی چھوڑ دینا کہ دشمن اسے خالی جان کر اپنی فوج لے آوے پھر داہنے بائیں اور پیچھے سے نکل کر اس کی فوج کو گھیر لینا جس سے ساری فوج ہتھیار ڈال دے،یہ ہے دھوکہ اس دھوکہ سے مراد جھوٹ اور ناجائز مکروفریب نہیں اب بھی جنگوں میں ایسی چالیں بہت چلی جاتی ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ حدیث قریبًا متواتر ہے کہ اسے احمد،ابوداؤد، ترمذی اورمسلم،بخاری،ابن ماجہ،بزاز،طبرانی ابن عساکر اور جامع صغیر میں بہت سے صحابہ کرام نے نقل فرمایا۔