| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت کعب ابن مالک سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نہیں ارادہ فرماتے تھے کسی جہاد کا مگر آپ اس کی دوسری طرف کا توریہ فرماتے تھے ۱؎ حتی کہ یہ جہاد یعنی غزوہ تبوک ہوا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سخت گرمی میں جہاد کیا اور دور دراز سفر کا رخ فرمایا اور بڑے جنگل بہت دشمنوں پر رخ کیا ۲؎ لہذا مسلمانوں کے لیے ان کا معاملہ کھول دیا تاکہ وہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں چنانچہ آپ نے ان سب کو اس طرف کی خبر دیدی جدھر کا ارادہ تھا ۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ انصاری خزرجی ہیں،عقبہ ثانیہ کی بیعت میں شریک تھے،سوا غزوہ تبوک کے تمام غزوات میں حاضر رہے،حضور کے نعت گو شعراء میں سے ایک ہیں،آپ ان تین صحابہ میں سے ہیں جن کا غزوہ تبوک کے موقعہ پر بائیکاٹ کیا گیا اور پھر عرش اعظم سے جن کی قبولیت توبہ کا سورۂ توبہ میں اعلان ہوا،آخر عمر شریف میں نابینا ہوگئے تھے،ستتر۷۷ سال عمر ہوئی، ۵۰ھ پچاس ہجری میں وفات ہوئی۔ ۲؎ یعنی علامات سے ظاہر فرماتے تھے کہ اس طرف حملہ کرنا ہے جیسے اس جانب کے حالات دریافت کرنا،ادھر کے گاؤں شہر کے نام پوچھنا تاکہ اگر کوئی جاسوسی کرے تو اس طرف والوں کو جنگ کی خبر دے اور جدھر حملہ کرنا ہے ادھر کے لوگ بے خبر رہیں اور بے خبری میں ان پر حملہ ہوجائے تاکہ جلد فتح ہوجائے اور خونریزی کم سے کم ہو۔اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ اس طرف کی خبر نہ دیتے تھے کہ یہ جھوٹ ہے،یہ طریقہ ہماری جنگی تدبیرتھی اب بھی اس پر عمل چاہیے۔شعر سکندر کہ باشرقیاں حرب داشت در خیمہ گویند در غرب داشت دشمن کو اپنے ارادے پر خبردار نہ ہونے دینا اچانک حملہ کرنا بہت مفید ہوتا ہے۔ ۲؎ تبوک مدینہ منورہ سے چودہ منزل پر واقع ہے اردن کے قریب،اب خیبر سے جو ہوائی جہاز عمان جاتا ہے وہ تبوک سے گزرتا ہے۔فقیر نے اس ہوائی جہاز سے سفر کیا ہے۔اشعہ میں فرمایا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری غزوہ ہے۔ ۳؎ یعنی غزوہ تبوک میں اپنا ارادہ ظاہر فرمادینا غازیوں کی تیاری کے لیے تھا کہ غازی دراز سفر کا سامان کرلیں۔اس زمانہ میں غزوہ کا زیادہ سامان خود غازی اپنے خرچ سے کرتے تھے اب تمام تیاری حکومت کرتی ہے اس لیے فوج کو آخر وقت تک خبر نہیں ہوتی کہ ہم کہاں جارہے ہیں،صرف کمانڈر یا کرنل وغیرہ مطلع ہوتے ہیں،اس غزوہ کا ذکر قرآن کریم میں بہت زیادہ ہے۔