روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے احد کے دن عرض کیا فرمایئے کہ اگر میں قتل کردیا جاؤں میں کہاں ہوں گا فرمایا جنت میں ۱؎ تو اس نے اپنے ہاتھ میں سے چھوارے پھینک دیئے ۲؎ پھر جنگ کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)
۱؎ یعنی جنت کے اس اعلیٰ مقام میں جو شہیدوں کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کا خاتمہ بالخیر ہونے والا تھا اور تمام گناہوں کی معافی اس کے نصیب میں تھی شہادت اس کے مقدر ہوچکی تھی اس لیے یہ جواب عطا ہوا۔معنی یہ ہیں تو شہید ہوتے ہی جنت میں پہنچے گا۔
۲؎ یعنی وہ سائل چھوارے کھا رہا تھا اور یہ سوال کررہا تھا جواب عالی سنتے ہی شہادت و جنت کے شوق میں چھوارے پھینک دیئے اسے اب تھوڑی زندگی بھی بوجھ معلوم ہونے لگی۔
۳؎ بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمیر ابن حمام ہیں مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت عمیر تو غزوہ بدر میں شہید ہوئے ہیں اور واقعہ غزوہ احد کا ہے۔