Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
830 - 1040
باب القتال فی الجھاد

باب جہاد میں قتل  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  جہاد،قتال،غزوہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں۔جہاد بنا ہے جہد سےبمعنی مشقت اورصرف طاقت۔غزوہ بنا ہے غزوٌ سے بمعنی باہر نکلنا اور جنگ کے لیے روانگی،قتال بمعنی ایک دوسرے کو قتل کرنا۔اس باب میں اﷲ کی راہ میں کفار سے لڑنے کے فضائل اور غازی کے ثواب کی احادیث مذکور ہوں گی۔
حدیث نمبر830
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے احد کے دن عرض کیا فرمایئے کہ اگر میں قتل کردیا جاؤں میں کہاں ہوں گا فرمایا جنت میں ۱؎ تو اس نے اپنے ہاتھ میں سے چھوارے پھینک دیئے ۲؎ پھر جنگ کی حتی کہ قتل کردیا گیا ۳؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  یعنی جنت کے اس اعلیٰ مقام میں جو شہیدوں کے لیے ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ اس بزرگ کا خاتمہ بالخیر ہونے والا تھا اور تمام گناہوں کی معافی اس کے نصیب میں تھی شہادت اس کے مقدر ہوچکی تھی اس لیے یہ جواب عطا ہوا۔معنی یہ ہیں تو شہید ہوتے ہی جنت میں پہنچے گا۔

۲؎  یعنی وہ سائل چھوارے کھا رہا تھا اور یہ سوال کررہا تھا جواب عالی سنتے ہی شہادت و جنت کے شوق میں چھوارے پھینک دیئے اسے اب تھوڑی زندگی بھی بوجھ معلوم ہونے لگی۔

۳؎  بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہ صاحب حضرت عمیر ابن حمام ہیں مگر یہ درست نہیں کیونکہ حضرت عمیر تو غزوہ بدر میں شہید ہوئے ہیں اور واقعہ غزوہ احد کا ہے۔
Flag Counter