روایت ہے حضرت ابو وائل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد ابن ولید نے۲؎ فارس والوں کو لکھا۳؎ میں شروع کرتا ہوں مہربان رحم والے اللہ کے نام ے یہ خط ہے خالد ابن ولید کی طرف سے رستم اور مہران کی طرف جو فارس کی جماعت میں ہیں۴؎ اس پر سلام ہو جو ہدایت کی ابتاع کرے اس کے بعد ہم تم کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں لیکن اگر تم نہ مانو تو جزیہ اپنے ہاتھ سے دو حالانکہ تم ذلیل ہو ۵؎ پھر اگر تم نہ مانو تو میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجانے کو ایسا پسند کرتے ہیں جیسے فارس کے لوگ شراب پسندکرتے ہیں ۶؎ اور سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے ۷؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ آپ کا نام شقیق ابن ابی سلمہ ہے،اسدی کوفی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہ کرسکے، حضور کی بعثت کے وقت دس سال کے تھے،جلیل القدر صحابہ سے ملاقات ہے جن میں حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود بھی ہیں اور حضرت ابن مسعود کے خاص ساتھیوں سے ہیں،حجاج ابن یوسف کے زمانہ میں وفات پائی،بڑے ثقہ بزرگ ہیں،آپ سے بہت احادیث مروی ہیں۔ ۲؎ آپ مشہور صحابی ہیں ،قرشی مخزومی ہیں،زمانہ جاہلیت میں قریش کے سردار تھے،آپ کی والدہ لبابہ صغریٰ ہیں، حضرت ام المؤمنین میمونہ کی بہن ۲۱ھ میں وفات ہوئیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے آپ کو سیف اﷲ کا خطاب دیا،ایک بار زہر ہتھیلی پر رکھ کر کھالیا کوئی اثر نہ ہوا، ایک بار کوئی شخص شراب سے بھری ہوئی مشک لیے جارہا تھا تو فرمایا الٰہی اسے شہد بنادے وہ شہد ہوگئی۔(مرقات)آپ کا مزار پرانوار دمشق و حلب کے درمیان شہر حمص میں ہے،یہ گنہگار قریب مزار تک پہنچا ہے۔ ۳؎ غالبًا یہ خط خلافت فاروقی میں روانہ کیا جب کہ ایران پرمسلمانوں کا حملہ ہونے والا تھا۔خیال رہے کہ ملک فارس عہد فاروقی میں فتح ہوا۔ ۴؎ مَلا جماعت کو بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ جگہ کو بھر دیتی ہے اور سرداروں کو بھی کیونکہ انکی ہیبت سے لوگوں کے دل بھرے ہوتے ہیں۔ملا کے معنی ہیں بھرنا خلاء کے مقابل یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں۔جماعت اور سرداران یعنی یہ خط اس جماعت یا ان سرداروں کی طرف ہے جن میں رستم اور مہران شامل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دعوت اسلام صرف بادشاہ کو بھی دی جائے،کفار کے سرداروں کو بھی اور عام لوگوں کو بھی کیونکہ رستم اور مہران فارس کے بادشاہ نہ تھے قوم کے سردار تھے۔ ۵؎ یعنی بہتر تو یہ ہے کہ تم مسلمان ہوکر دونوں جہاں کی عزت و عظمت حاصل کرلو ورنہ تم کو جزیہ دینے کی ذلت اختیار کرنا پڑے گی۔جزیہ دینا خود ایک ذلت ہے یہ عبارت قرآن کریم کی اس آیت سے ماخوذ ہے"حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنۡ یَّدٍ وَّہُمْ صٰغِرُوۡنَ"اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ ذمی کفار خواہ کتنے بڑے امیر ہوں مگر اپنا جزیہ(ٹیکس)حاکم اسلام کے سامنے خود لے کر حاضر ہوں،اپنے نوکر وغیرہ کے ہاتھ نہیں بھیج سکتے کیونکہ آیتِ کریمہ میں عن ید ارشاد ہوا ہے۔ ۶؎ یعنی اگر تم جزیہ بھی قبول نہیں کرتے اور ہماری رعایا بھی نہیں بنتے تو پھر ہماری تمہاری جنگ ہے مگر اس جنگ کا انجام سوچ لو۔تم کو شراب کے عارضی نشہ سے الفت ہے ہمارے مجاہدوں کو عشق الٰہی کے دائمی نشہ سے محبت،تم شراب پی کر لڑتے ہو ہم نشہ عشقِ الٰہی میں مخمور ہوکر صرف رب کے لیے لڑتے ہیں،عارضی چیز اصل کے مقابل میں ٹھہر سکتی ہے۔ ۷؎ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان کسی سے بے خبری میں نہیں لڑتے بلکہ پہلے اسے خبردار کرتے پھر ہتھیار اٹھاتے ہیں۔یہ حکم بے خبر کفار کے لیے ہے جنہیں ابھی دعوت اسلام نہ پہنچی ہو بلکہ باخبر کفار کے ایمان کی اگر امید ہو تو انہیں خبر دے دینا مستحب ہے۔فارسیوں کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی دعوت اسلام دے چکے تھے اب یہ دعوت دینا مستحب تھا،یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن کی جنگ ملک گیر یا مال حاصل کرنے کو نہیں ہوتی صرف رضا الٰہی اور تبلیغ اسلام کے لیے ہوتی ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ کفار کو السلام علیکم نہ کہا جائے۔ انہیں وہ سلام کیا جائے جو یہاں مذکور ہے قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر ہے۔