۱؎ دودھ پینے والے بچے پر دائی کے تمام وہ اہل قرابت حرام ہیں جو اپنے نسب سے حرام ہوتے ہیں دائی کا خاوند بیٹا،دیور، جیٹھ،بھائی وغیرہ مگر شیر خوار بچے کی اولاد و بیوی اس طرف والوں پر حرام ہوگی،رضاعت رضع سے بنا بمعنی پستان چوسنا۔خیال رہے کہ دودھ کے رشتہ سے حرمت تو آئے گی مگر اس رشتہ سے میراث نہ ملے گی نیز اس رشتہ کی وجہ سے پردہ لازم نہ ہوگا اس کے ساتھ سفر و خلوت جائز ہوگا۔لطیفہ۔امام بخاری نے غلطی سے بکری و گائے کے دودھ سے حرمت رضاعت کا فتویٰ دے دیا تھا جس پر تمام علماء ان کے مخالف ہوگئے اور آپ کو بخارا چھوڑنا پڑا(فتح القدیر و مرقات)
۲؎ یہ حدیث مسلم وابوداؤد ،نسائی،ابن ماجہ نے بھی روایت کی لہذا اسے متفق علیہ کہنا چاہیے تھا۔(مرقات)