| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب ہمارے ساتھ کسی قوم پر جہاد کرتے تو حملہ نہ فرماتے حتی کہ صبح پالیتے اور ان کی طرف غور کرتے ۱؎ اگر اذان سنتے تو ان سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنتے تو ان پر حملہ کردیتے ۲؎ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم ان تک رات میں پہنچے ۳؎ جب سویرا ہوا اور اذان نہ سنی تو آپ سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے سوار ہوا کہ میرے قدم حضور کے قدم سے چھوتے تھے۴؎ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ اپنی زنبیلیں اور پھاؤڑے لے کر نکلے ۵؎ پھر جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا تو بولے محمد خدا کی قسم محمد اور لشکر ۶؎ پھر انہوں نے قلعہ میں پناہ لے لی ۷؎ تو جب انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو فرمایا اﷲ اکبر اﷲ اکبر خیبر ویران ہوگیا۸؎ جب ہم ایک قوم کے میدان میں اترے تو ڈرائے ہوؤں کا سویرا برا ہوگیا ۹؎(مسلم بخاری)۱۰؎
شرح
۱؎ یعنی کسی قوم پر رات میں حملہ نہ کرتے کیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں ہی عرب میں اسلام پھیل چکا تھا۔ممکن تھا کہ جہاں حملہ کرنا ہے وہاں مسلمانوں کی آبادی ہو اس لیے توقف فرماتے۔یہ عمل شریف امت کی تعلیم کے لیے تھا ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی امت سے خبردار ہیں کہ کون کہاں ہے اورکس حال میں ہے جیساکہ بارہا عرض کیا جاچکا ہے۔ ۲؎ معلوم ہوا کہ اذان دین کا شعار ہے،اس کی برکت سے بلائیں ٹل جاتی ہیں اور اگرکسی جگہ کے مسلمان اذان چھوڑ دیں تو سلطان اسلام ان پر جہاد کرے۔اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث بھی ہوسکتی ہے مسلمان اذان قائم کریں۔ ۳؎ اور پہنچے اس حالت میں کہ خیبر والے ہمارے اس آمد سے بالکل ہی بے خبر تھے۔اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان غازیوں کو بلند آواز سے تکبیر کہنے تک سے روک دیا تھا تاکہ کسی طرح خیبر والوں کو ان کی آمد کا پتہ نہ چل جائے۔مقصد یہ تھا کہ خونریزی کے بغیر فتح ہو جائے۔ ۴؎ اس طرح کہ میں اور میرے سوتیلے والد ابوطلحہ ایک گھوڑے پر سوار تھے اور حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ایک گھوڑے پر سوار تھے مگر یہ دونوں اس قدر ملے ملے چل رہے تھے کہ ہر پاؤں کو حضور کی قدم بوسی نصیب ہوجاتی تھی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک گھوڑے پر یہ تین حضرات سوار تھے حضرت انس اور ابوطلحہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم جیساکہ بعض شارحین نے سمجھا ہے۔ ۵؎ مکاتل جمع ہے مکتل کی بمعنی زنبیل(ٹوکری)اتنی بڑی کہ جس میں پندرہ صاع چیز آجائے۔ایک صاع ساڑھے چار سیر کا۔(اشعہ)مساحی جمع ہے مسحاۃ کی بمعنی پھاؤڑا۔یہ سحو سے بنا بمعنی کھولنا،چونکہ پھاؤڑے کے ذریعے زمین سے مٹی ہٹا کر زمین کھولی جاتی ہے اس لیے مسحاۃ کہتے ہیں یعنی زمین کھولنے کا آلہ۔مقصد یہ ہے کہ اہل خیبر ہمارے حملہ سے ایسے بے خبر تھے کہ وہ صبح کو کھیتی باڑی اور باغبانی کے اوزار لے کر اپنے کھیتوں اور باغوں کی طرف نکلے راہ میں انہوں نے ہم کو دیکھا تو دنگ رہ گئے۔ ۶؎ یعنی محمد رسول اللہ اور لشکر اسلام پہنچ گئے حیرت سے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا۔خیال رہے کہ لشکر کو خمیس یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ لشکر کے پانچ حصے ہوتے ہیں(۱)مقدمہ(۲)ساقہ(۳)میمنہ(۴)میسرہ(۵)قلب یا اس لیے کہ غنیمت کے پانچ حصے ہوکر خمس یعنی پانچواں حصہ اللہ رسول کا ہوتا تھا اور چار حصے فوج کے، خمیس کے معنی ہیں خمس یعنی پانچ والی۔ ۷؎ خیبر میں اب تک پانچ بلکہ سات قلعے ہیں ایک قلعہ بہت بڑا یہاں یا تو جنس قلعہ مراد ہے یا بڑا قلعہ دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں۔فقیر نے وہ قلعہ دیکھا ہے بہت اونچا اور بہت ہی مضبوط ہے،پہاڑی سا معلوم ہوتا ہے،بہت چوڑی دیواریں ہیں اورگرد خندق ہے جو اب تک دیکھنے میں آتی ہے۔ ۸؎ یہ جملہ خبر ہے یا دعا یعنی کفار سے خالی ہوگیا یا خالی ہوجائے،رب تعالٰی نے فرمان سچا کر دکھایا اب تک وہاں کفار نہ پہنچ سکے ہیں۔ ۹؎ یہ فرمان عالی اس آیت کریمہ سے اقتباس ہے"فَاِذَا نَزَلَ بِسٰحَتِہِمْ فَسَآءَ صَبَاحُ الْمُنۡذَرِیۡنَ" یعنی ہمارا ان پر ٹوٹ پڑنا ان پر عذاب الٰہی ہے کہ ہمارے آتے ہی ان کا سویرا بگڑ گیا یعنی ان کا حال خراب ہوگیا۔اس سے معلوم ہوا دشمن پر حملہ کے وقت نعرہ تکبیر سنت ہے اور قرآن کریم سے اقتباس صحیح طور پر جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ ۱۰؎ یہ حدیث ترمذی،نسائی،ابن ماجہ نے بھی روایت کی۔