Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
824 - 1040
حدیث نمبر824
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن ابی اوفی سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض ان دنوں میں جن میں دشمن سے جنگ فرمائی ۲؎  تو یہاں تک انتظار فرمایا کہ سورج ڈھل گیا۳؎  تو حضور لوگوں میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ اے لوگو دشمن سے ملنے کی آرزو نہ کرو۴؎  اور اللہ سے امن کی دعا مانگو پھر جب بھڑ جاؤ تو صبر کرو ۵؎ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ کے نیچے ہے ۶؎ پھر کہا اے اﷲ اے کتاب کے اتارنے والے اور بادلوں کو چلانے والے اور لشکروں کو بھگانے والے انہیں بھگادے اور ان کے مقابل میں ہماری مدد فرما ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کے حالات بارہا بیان ہوچکے ہیں، ۸۷ھ؁  ہجری میں کوفہ میں وفات پائی۔

۲؎  یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ جنگ کون سی تھی مگر یہ معلوم ہوا کہ اس جنگ میں مسلمان حملہ آور تھے کفار نے مدینہ منورہ پر حملہ نہ کیا تھا۔خیال رہے کہ جہاد ہر طرح جائز ہے مدافعانہ بھی اور جارحانہ طور پر بھی۔ جن بے وقوفوں نے سمجھا کہ مسلمان صرف دفاع کریں انہوں نے غلط سمجھا،سواء احد و احزاب کے حضور نے تمام جہاد جارحانہ ہی کیے ہیں۔

۳؎  جب کہ دوپہر کی تیزی جاتی رہی نماز ظہر کا وقت آگیا فتح و نصرت کی ہوائیں چلنے لگیں مجاہدین قیلولہ کرکے تازہ دم ہوگئے دعا کی قبولیت کا وقت آگیا کیونکہ نماز کے وقتوں میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں۔معلوم ہوا کہ یا تو صبح کے وقت جہاد کیا جائے یا دن ڈھلے،بیچ دوپہری میں جہاد نہ کرے۔(مرقات وغیرہ)حدیث شریف میں ہے کہ دن ڈھلے آسمان کے دروازہ رحمت کھل جاتے ہیں۔(اشعہ)

۴؎ یعنی جنگ کی تمنا نہ کرو نہ دعا مانگو کیونکہ جنگ ایک بلا ہے بلا کی آرزو اچھی نہ بہتر اس میں فخروتکبر کی بو ہے اس لیے اس تمنا سے بچو اپنی قوت و طاقت پر بھروسہ نہ کرو۔ہمیشہ اﷲ سے فضل و رحمت مانگو۔بیماری اگرچہ اﷲ کی رحمت کا باعث ہے،سانپ کاٹے کی موت شہادت کی موت ہے مگر نہ تو ان کی دعا کرو نہ کوشش اور جب رب کی طرف سے آجائے تو صبر کرو۔

۵؎  یعنی دعا کرو امن و عافیت کی نہ کہ جنگ کی اور اگر کفار سے جنگ کرنا پڑے تو پھر ہمت و استقلال سے کام لو۔سبحان اﷲ! کیسی نفیس تعلیم ہے۔

۶؎  تلوار سے مراد ہتھیار جنگ ہیں جن میں تیر بندوق توپ اور ہوائی جہاز راکٹ وغیرہ سب شامل ہیں،چونکہ اس زمانہ میں جہاد کا عام استعمالی ہتھیار تلوار تھی اس لیے ہی اس کا ذکر فرمایا۔سایہ تلوار سے مراد ہے اٹھی ہوئی کھچی ہوئی تلوار خواہ ہماری تلوار ہو جو کافروں کے سر پر پڑرہی ہو یا کفار کی تلوار ہو جو وہ ہم پر اٹھا رہے ہوں یعنی جنت جہاد سے بہت ہی قریب ہے گویا تلواروں کے سایہ میں ہے کہ غازی شہید ہوا اور جنگ میں گیا۔خیال رہے کہ تمام جنتی مسلمان بعد قیامت جنت میں جائیں گے مگر شہید کی روح جسم سے نکلتے ہی جنت میں پہنچ جاتی ہے۔

۷؎ معلوم ہوا کہ جہاد سے پہلے دعاء نصرت کرنا سنت ہے اور بہتر ہے کہ دعا ماثورہ مانگے یہ دعا ہو یا کوئی اور دعا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے منقول ہو یا حضرات اولیاء سے۔
Flag Counter