| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سلیمان ابن بریدہ سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی کو کسی لشکر یا فوج پر امیر بناتے تو اسے اپنے خاص ذاتی معاملہ میں اللہ سے ڈرنے کی اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرماتے تھے ۲؎ پھر فرماتے کہ اﷲ کے نام سے اﷲ کی راہ میں جہاد کرو،ان سے جنگ کرو جو اللہ کے منکر ہیں۳؎ جہاد کرو تو نہ خیانت کرو،نہ بد عہدی اور نہ مثلہ کرو نہ کسی بچہ کو قتل کرو ۴؎ اور جب اپنے دشمن مشرکوں سے ملو تو انہیں تین خصلتوں یا تین باتوں کی طرف بلاؤ ۵؎ تو وہ ان میں سے جو بات مان جائیں تم ان سے قبول کرو اور ان کے ہاتھ روک لو ۶؎ انہیں اسلام کی طرف بلاؤ ۱؎ تو اگر وہ یہ مان لیں تم ان سے قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو ۷؎ تو پھر انہیں اپنے وطن سے مہاجرین کی جگہ کی طرف منتقل ہوجانے کی دعوت دو ۸؎ اور انہیں خبر دو کہ وہ یہ کرلیں گے تو ان کے لئےوہ ہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور ان پر وہ ذمّہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں ۹؎ اگر وہ وہاں سے منتقل ہونے سے انکار کریں تو انہیں آگاہ کردو کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہونگے کہ ان پر وہ احکام الٰہی جاری کئے جائیں گے ۱۰؎ جو مسلمانوں پر جاری کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے غنیمت و فئ سے کچھ نہ ہوگا ۱۱؎ مگر یہ کہ مسلمان کے ساتھ جہاد کریں۱۲؎ پھر اگر وہ انکار کریں تو تم ان سے جزیہ مانگو ۱۳؎ پھر اگر وہ لوگ تمہاری مان لیں تو تم ان سے قبول کرلو اور ان سے ہاتھ روک لو۱۴؎ لیکن اگر وہ انکاری ہوں تو اللہ سے مدد مانگو اور ان سے جنگ کرو ۱۵؎ اور جب تم کسی قلعہ والوں کامحاصرہ کرو پھر وہ تم سے خواہش کریں کہ تم ان کے لئے اللہ رسول کا ذمہ کرو تو تم ان کےلئے نہ اللہ کا ذمہ اور نہ اس کے نبی کا ذمہ۱۶؎ بلکہ ان کے لیے اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دو کیونکہ اگر تم اپنا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ توڑے جاؤ تو یہ اس سے آسان ہے کہ تم اللہ کا ذمہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑے جاؤ ۱۷؎ اور اگر تم کسی قلعہ والوں کامحاصرہ کرو پھروہ چاہیں کہ تم انہیں اللہ کے حکم پر اتارو تو تم ان کو اللہ کے حکم پر نہ اتارو لیکن انہیں اپنے حکم پر اتارو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کے متعلق اللہ کا حکم پاؤ گے یا نہیں ۱۸؎(مسلم)
شرح
۱؎ سلیمان تابعی ہیں،عہد فاروقی میں پیدا ہوئے،ان کے والد بریدہ ابن حصیب صحابی ہیں،حضرت علی کے خاص لوگوں سے ہیں،مشہور صحابی ہیں۔ ۲؎ یعنی لشکر کے سپہ سالار سے فرماتے کہ اپنے ذاتی معاملہ میں اﷲ سے ڈرنا،ترک نماز،خیانت دیگر خلاف شرع باتوں سے پرہیز کرنا اور اپنے ماتحت سپاہیوں وغیرہم کے ساتھ بھلائی کرنا،نرم برتاوا کرناگویا اپنے آپ مشقت جھیلنا،ماتحتوں پر نرمی کرنا اس لیے پہلے تقوی اﷲ فرمایا اور بعد میں خیرًا۔ ۳؎ یعنی جہاد میں صرف رضاالٰہی کی نیت ہو،ملک گیری،غنیمت عزت حاصل کرنے کی نیت نہ ہو،رب تعالٰی راضی ہوجائے تو تمہیں سب کچھ مل جائے گا،اﷲ کے انکار سے مراد اﷲ کے دین کا انکار ہے لہذا اس میں نبوت یا کتاب اللہ کا انکار بھی داخل ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جہاد صرف کفار پر ہوگا خواہ اصلی کافر ہوں خواہ مرتد ہی کہ مسلمان اسلام چھوڑ کر بے دین ہوجائیں اور ان سے جنگ کرنی پڑے وہ بھی جہاد ہے جیسے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے منکرین زکوۃ اور مسیلمہ کذاب کو نبی مان لینے پر جہادکیے،خلافت حیدری کے زمانہ میں جو حضرت عائشہ صدیقہ یا امیر معاویہ سے جنگیں ہوئیں وہ جہاد نہیں صرف قتال ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَقٰتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ"۔ ۴؎ اس مختصر فرمان عالی میں چار چیزوں سے منع فرمایا گیا:غنیمت میں خیانت،بحالت جنگ جو مقابل کفار سے وعدہ کرلیا جائے اس کے خلاف کرنا،مقتول کافر کے ناک کان،ہاتھ پاؤں کاٹنا یا اس کا منہ کالا کرنا،کفار کے ناسمجھ بچوں کو قتل کرنا۔اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں مثلہ کرنا(مقتول کی شکل بگاڑنا)منسوخ ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے جو قبیلہ عرینہ کے مرتد ڈاکوؤں کی آنکھیں پھوڑیں وہ اس حکم سے منسوخ ہے۔بعض علماء نے فرمایا کہ اگر کفار ہمارے مقتول شہداء کا مثلہ کریں تو ہم بھی اس کے جواب میں ان کا مثلہ کرسکتے ہیں مگر پہلی بات صحیح ہے،اگر بحالت جنگ اتفاقًا کفار کے بچے مرجائیں تو مجاہدین گنہگار نہیں کہ ان کا ارادہ نہ تھا اور اگر بچہ کفار کا بادشاہ یا سپہ سالار ہو تو اسے قتل کردیا جائے کہ اس سے کفر کی شوکت تو ڑنا ہے۔اس کی پوری بحث فتح القدیر اور مرقات میں دیکھو۔کفار کی عورتیں و بوڑھے لوگ اگر جنگ سے علیٰحدہ ہوں تو انہیں قتل نہ کیا جائے،اگر بادشاہ یا سپہ سالار ہو یا کفار کے مددگار کہ انہیں طریق جنگ سکھاتے ہوں تو ضرور قتل کردیجئے جاویں۔ ۵؎ اس میں خطاب امیرلشکر سے ہے کہ یہ کام امیر کا ہے عام غازیوں کا نہیں۔خصال جمع خصلۃ کی،خلال جمع ہے خلۃ کی دونوں کے معنی ایک ہی ہیں یعنی عادت۔ ۶؎ سبحان اﷲ! یہ ہے اسلامی جہاد کہ ایک دم کفار پر ٹوٹ پڑنے کی اجازت نہیں۔جہاد میں اصل مقصود اسلام پھیلانا ہے نہ کہ صرف کفار کو قتل کرنا جنگ تو صرف مجبوری سے ہے۔ ۷؎ یعنی بطور مشورہ ان کو دعوت اسلام دو،کہو کہ مسلمان ہوکر ہمارے بھائی بن جاؤ،اگر ان کفار تک دعوت اسلام نہ پہنچی ہو وہ اسلام کو جانتے ہی نہ ہوں تو یہ حکم وجوبی ہے کہ بغیر دعوت دیئے جنگ کرنا ممنوع ہے اور اگر پہنچ چکی ہے تو یہ امر استحبابی ہے کہ اگر بغیر دعوت دیئے بھی جنگ کی گئی تو جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے دعوت بعد میں جنگ اور یہ حکم اسی وقت ہے جب یہ چیزیں ممکن ہوں،اگر حالات نازک ہیں دعوت کا موقعہ نہیں جلد حملہ نہ کرنے میں خطرہ ہے تو یہ حکم نہیں۔ ۸؎ یعنی بلاوجہ بدگمانی نہ کرو کہ انہوں نے دھوکہ کے لیے اسلام قبول کیا ہے دل سے قبول نہیں کیا بلکہ ان کا اسلام لانا مان لو،اگر دھوکہ دہی کی علامات موجود ہوں تو ان کا حکم دوسرا ہے۔ ۹؎ مرقات نے فرمایا کہ ہجرت کا یہ حکم فتح مکہ سے پہلے تھا،فتح مکہ ہوچکنے کے بعد اب ان کفار سے ہجرت کے لیے نہ کہا جائے گا۔چنانچہ عہد فاروقی وغیرہ میں بڑے معرکے کے جہاد ہوئے،لوگ مسلمان ہوئے مگر کسی کو مدینہ منورہ کی طرف منتقل ہوجانے کا حکم نہ دیا گیا،نہ مدینہ منورہ میں اتنی جگہ ہے کہ تمام نو مسلم مہاجروں کو جگہ وہاں مل سکتی ہے لہذا یہ فرمان اسی زمانہ کے لحاظ سے ہے۔ ۱۰؎ زمانہ نبوی میں مہاجرینِ مدینہ کو فئ میں سے حصہ ملا کرتا تھا خصوصًا جب وہ جہاد میں جاتے تو ان کی واپسی تک ان کے بال بچوں کو اس فئ سے خرچہ ملتا رہتا تھا،نیز مہاجرین کو جہاد کے لئے حسبِ الحکم جانا پڑتا تھا یہاں یہ ہی دوخبریں مراد ہیں یعنی اگر تم مہاجرین بن کر مدینہ منورہ آگئے تو تم کو فئ کا وہ ہی حصہ ملا کرے گا جو مہاجرین کو ملتاہے اور تم پر اسی طرح جہادمیں جانا لازم ہواکرے گا جو دیگر مہاجرین پر لازم ہے۔غیر مہاجرین مسلمان جو کفار کے ملک میں رہتے ہیں ان پر اس طرح جہاد واجب نہیں یعنی جیسے دوسرے غیرمہاجرین پر لازم ہے۔غیر مہاجر مسلمان جو کفار کے ملک میں رہتے ہیں ان پر اس طرح جہاد واجب نہیں۔ ۱۱؎ یعنی جیسے دوسرے غیرمہاجرمسلمانوں پر جہاد نہیں صرف نمازوروزہ وغیرہ ہے ایسے ہی ان پر ہوگا انہیں مہاجرین کی رعایات نہ ملیں گی۔ ۱۲؎ یا تو غنیمت اور فئ ہم معنی ہیں اور یہ عطف تفسیری ہے یا غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ میں لڑکر حاصل کیا جائے اور فئ وہ مال ہے جو بغیر جنگ ہاتھ آجائے۔ ۱۳؎ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ زمانہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم میں مہاجرین کو غنیمت و فئ میں سے کچھ دیا جاتا تھا جو غیر مہاجر کو نہ ملتا تھا۔ ۱۴؎ یعنی اگر کفار اسلام قبول نہ کریں تو تم ان کو مسلمان ہونے پر مجبور نہ کرو بلکہ انہیں کہو کہ ہماری رعایا بن جائیں اور ہم کو جزیہ(ٹیکس)دیا کریں کہ ہم ان کی حفاظت کریں وہ ہم کو ٹیکس دیں۔خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں مشرکین عرب اور مجوسیوں سے ٹیکس(جزیہ)نہ لیا جائے گا ان کے لیے صرف اسلام ہے یا قتل۔ مرتدین سے جزیہ کسی مذہب میں نہیں اسے تو مسلمان ہی ہونا پڑے گا ورنہ قتل کیا جائے گا،یہ حدیث امام مالک و اوزاعی کی دلیل ہے ان کے ہاں ہر کافر سے جزیہ قبول کیا جائے گا اہل کتاب ہو یا مشرک یا مجوسی اور عربی ہو یا عجمی۔امام شافعی کے ہاں اہل کتاب اور مجوسیوں سے جزیہ قبول ہوگا خواہ عربی ہوں یا عجمی۔ہمارے اور امام شافعی کے ہاں یہ حدیث اہل کتاب کے متعلق ہے،انہیں مشرکین فرمایا گیا ہے لغت کے لحاظ سے کہ وہ مشرک ہیں لہذا یہ حدیث ہمارے اور شوافع کے خلاف نہیں۔ ۱۵؎ یعنی جزیہ قبول کرکے انہیں اپنی رعایا بنا لو انہیں قتل نہ کرو کہ اداء جزیہ کے بعد ان کفار کے مال و جان مسلمانوں کے مال و جان کی طرح ہو جاتےہیں جیساکہ حضرت علی کی روایت میں ہے۔(مرقات) ۱۶؎ یہ ہے وہ تیسری بات جس کا ذکر پہلے ہوا تھا یعنی اگر کفار ایسے سرکش ہوں کہ نہ تو مسلمان بنیں نہ تمہاری اطاعت کریں تب ان پر جہاد کرو۔ ۱۷؎ یعنی اگر قلعہ میں گھرے ہوئے کفار خواہش کریں کہ ہم کو اﷲ رسول کی ذمہ داری پر ان کی ضمانت پر قلعہ سے باہر نکال لو کہ ہماری جان و مال کے اللہ رسول ضامن و ذمہ دار ہیں اگر تم نے ہم کو باہر نکال کر قتل کیا یا مال لیا تو تم ان دونوں ذاتوں کے مجرم ہو گے۔یہاں مرقات نے ذمہ کے معنی کیے عہد و امان۔اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ رسول کی ضمان اﷲ رسول کی امان لینا جائز ہے،بعض لوگ اپنے مسافر سے کہتے ہیں اﷲ رسول کی ضمان پانچ پیروں کی امان میں جاوے،بعض لوگ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کا امام ضامن مسافر کے بازو پر باندھتے ہیں،ان سب کا ماخذ یہ فرمان عالی بھی ہوسکتا ہے یعنی کفار کو اللہ رسول کی ضمان پر نہ اتارو بلکہ اپنی ضمان و امان پر اتارو۔ ۱۸؎ یہاں دو روایتیں ہیں اَن الف کے فتح سے اور اِن الف کے کسرہ سے اور تخفروا بنا ہے اخفار سے بمعنی توڑنا یا معروف ہے یا مجہول ہم نے مجہول کی روایت لی ہے یعنی اگر تم کفار کو اللہ رسول کے ذمہ پر اتارو اور وہ اتر کر اس ذمہ کو توڑ دیں تو یہ بہت برا ہے،اگر تمہارے ذمہ کو توڑیں تو یہ نرم ہے اور اگر تخفروا معروف ہے تو معنی یہ ہوئے کہ اگر وہ لوگ بدعہدی کریں اور تم ان کی بد عہدی کی وجہ سے ان کی امان توڑو تو اللہ رسول کی امان توڑنا سخت ہے اپنی امان توڑنا سہل لہذا حدیث پاک میں بد عہدی وعدہ خلافی امان توڑنے ضمان کے خلاف کرنے کی اجازت نہیں،یہ خوب خیال میں رکھنا چاہیے۔ ۱۹؎ یعنی اگر محصور کفار تم سے کہیں کہ ہم قلعہ سے اتر آتے ہیں ہم پر اﷲ تعالٰی کا حکم جاری کرنا تو تم یہ قبول نہ کرو کیونکہ تم جو حکم جاری کرو گے وہ وحی سے تو ہوگا نہیں تمہارے اپنے اجتہاد سے ہوگا نہ معلوم کہ اجتہاد درست ہو یا نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ مجتہد اپنے اجتہادی حکم کو یقینی طور پر اللہ رسول کا حکم نہیں کہہ سکتا،کیا خبر ہے کہ یہ اجتہاد درست ہے یانہیں۔اسی لئے علامہ شامی نے فرمایا کہ اگر ہم سے سوال کیاجائے کہ تم حق پر ہو یا امام شافعی تو ہم کہیں گے کہ غالبًا حق پرہم ہی ہیں مگر شائد حق پر وہ ہوں اگر پوچھاجائے تم حق پر ہو یا معتزلہ و خوارج تو ہم کہیں گے کہ یقینًا ہم ہی حق پر ہیں وہ لوگ یقینًا باطل پر ہیں کیونکہ امام شافعی سے اجتہادی اختلاف ہے اور ان معتزلہ و خوارج سے عقیدہ کا اختلاف ہے۔