۱؎ یعنی دوران سفر میں کہیں منزل پر قیام فرماتے تو سونے کی نیت سے داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے جیسا کہ حضور انور کا دائمی طریقہ تھا کہ قبر کی رخ بستر ہوتا داہنا ہاتھ داہنے رخسارہ کے نیچے رکھتے داہنی کروٹ پر لیٹتے کہ اس طرح لیٹنے میں نیند غفلت کی نہیں آتی رات کو بہ آسانی اٹھا جاسکتا ہے۔اطباء بائیں کروٹ لینے کو اس لیے کہتے ہیں تاکہ نیند خوب آجائے اطباء کی نظر راحت بدن پر ہے حضور کی نظرپاک تہجد کے لیے اٹھنے پر تھی۔خیال رہے کہ عرس سے بنا ہے تعریس سے بمعنی آخری شب کا نزول آخری شب کا آرام۔عرب میں عمومًا رات میں سفر کرتے تھے اول رات سفر آخر رات آرام۔
۲؎ اور لیٹ جاتے تاکہ کچھ تھکنی دور ہوجائے مگر نیند نہ آجائے کیونکہ نماز فجر کا وقت قریب ہے ہر جگہ نماز کا خیال ہے۔