Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
816 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر816
روایت ہے حضرت ابو قتادہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب کسی سفر میں ہوتے پھر رات میں اترتے تو اپنی داہنی کروٹ پر لیٹتے ۱؎  اور جب صبح سے کچھ پہلے آرام کرتے تو اپنی کلائی کھڑی فرماتے اور اپنا سر اپنے ہاتھ پر رکھتے ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎  یعنی دوران سفر میں کہیں منزل پر قیام فرماتے تو سونے کی نیت سے داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے جیسا کہ حضور انور کا دائمی طریقہ تھا کہ قبر کی رخ بستر ہوتا داہنا ہاتھ داہنے رخسارہ کے نیچے رکھتے داہنی کروٹ پر لیٹتے کہ اس طرح لیٹنے میں نیند غفلت کی نہیں آتی رات کو بہ آسانی اٹھا جاسکتا ہے۔اطباء بائیں کروٹ لینے کو اس لیے کہتے ہیں تاکہ نیند خوب آجائے اطباء کی نظر راحت بدن پر ہے حضور کی نظرپاک تہجد کے لیے اٹھنے پر تھی۔خیال رہے کہ عرس سے بنا ہے تعریس سے بمعنی آخری شب کا نزول آخری شب کا آرام۔عرب میں عمومًا رات میں سفر کرتے تھے اول رات سفر آخر رات آرام۔

۲؎  اور لیٹ جاتے تاکہ کچھ تھکنی دور ہوجائے مگر نیند نہ آجائے کیونکہ نماز فجر کا وقت قریب ہے ہر جگہ نماز کا خیال ہے۔
Flag Counter