| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے عبداﷲ ابن رواحہ کو کسی فوج میں بھیجا ۱؎ یہ جمعہ کے دن میں اتفاقًا واقع ہوا ۲؎ تو ان کے ساتھی سویرے ہی چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ میں پیچھے رہ جاؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر ان سے جاملوں گا۳؎ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پڑھی انہیں دیکھا ۴؎ تو فرمایا تم کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ صبح میں جانے سے کس چیز نے روکا تو عرض کیا کہ میں نے چاہا آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر ان سے جا ملوں ۵؎ فرمایا کہ اگر تم تمام زمینی چیزیں خیرات کردو تو بھی ان کے سویرے نکل جانے کا درجہ نہیں پاسکتے ۶؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ حضرت عبداﷲ ابن رواحہ انصاری خزرجی ہیں،بیعۃ عقبہ،بدر،احد،خندق اور تمام غزوات میں شریک رہے سوائے فتح مکہ کے کیونکہ آپ سن آٹھ میں غزوہ موتہ میں شہید ہوچکے تھے،آپ حضور کے شاعروں میں سے ہیں،حضرت حسان کی طرح نعت گو صحابہ ہیں غالبًا اس فوج کا افسر بناکر بھیجا گیا تھا۔جس لشکر میں حضور تشریف نہ لے جاویں وہ سریہ کہلاتا ہے۔بھیجا سے مراد ہے جانے کا حکم صادر فرمایا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۲؎ یعنی یہ حکم جمعہ کے دن صبح سویرے نکل جانے کا تھا اس طرح کہ جمعرات کے دن حکم ہوا کہ کل صبح سویرے فلاں فلاں حضرات اس طرف جہاد کے لیے چلے جاویں۔جمعہ کے دن اذان جمعہ سے پہلے سفر جائز ہے اگر حضور عین نماز کے وقت حکم دیں تو اس وقت نکل جانا ضروری۔ ۳؎ یہ آپ کا اجتہاد تھا آپ کا خیال تھا کہ صرف چند گھنٹے ٹھہر جانے میں مدینہ منورہ،مسجد نبوی اور حضور کے ساتھ جمعہ میسر ہوجائے،مدینہ پاک کی ایک نماز کا پچاس ہزار ثواب ہے پھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے نماز تو لاکھوں نمازوں سے بہتر ہے یہ فوائد جلد چلے جانے اور جنگل میں پہنچ کر بجائے نماز جمعہ ظہر ادا کرنے میں نہ حاصل ہوں گے اور اس ٹھہر جانے کی کسر میں نکال لوں گا کہ تیز سواری پر ان مجاہدین سے جا ملوں گا تعمیل ارشاد ہوجائے گی بہرحال نیت نہایت ہی اچھی تھی۔ ۴؎ اس طرح کہ نماز جمعہ کے بعد آپ خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ملے وداع ہونے کے لیے یا ویسے ہی برکت حاصل کرنے کے لیے جیسے آج کل بھی بعد نماز جمعہ بزرگوں سے ملاقات کی جاتی ہے۔ ۵؎ یعنی کسی دنیاوی کام کے لیے نہیں رکا ہوں اس لالچ میں ٹھہر گیا ہوں کہ ڈبل ثواب حاصل کروں آپ کے ساتھ نماز جمعہ پڑھنے کا اور جہاد میں جانے کا۔ ۶؎ یعنی اگر تم میرے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنے کے ساتھ ساری دنیا کا مال خیرات بھی کردو تو جو ثواب ان سویرے نکل جانے والوں کو تعمیل حکم کا ملا وہ تم کو ان تمام عبادات کا نہیں مل سکتا۔معلوم ہوا کہ حضور کی اطاعت تمام عبادات سے افضل ہے،ان کی اطاعت میں ترک جمعہ عبادت ہے بغیر اطاعت جمعہ کی نماز مسجد نبوی میں پڑھنا اعلیٰ عبادت نہیں۔شعر معلوم ہوا کہ جملہ عبادات فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے ان کے در پر دم نکل جائے تو جی جائیں حسن ان کے در سے دور رہ کر زندگی اچھی نہیں اس لیے صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ رضائے یار بہتر ہے لقاء یار سے دور رہیں مگر راضی رہیں یہ بہتر ہے اس سے کہ ہم قریب رہیں اور حضور ناراض رہیں۔شعر لقائے دوست چہ خواہی رضاء دوست طلب کہ حیف باشد از وغیراو تمنائے