۱؎ اس حدیث کے چند معنی کے گئے ہیں:ایک یہ کہ سفر سے مراد قریب کا سفر ہے یعنی جب انسان کہیں قریب ہی گیا ہو تو اول شب میں گھر پہنچے آخر رات میں نہ پہنچے اور دن میں پہنچنے کا فرمان دور کے سفر کے لیے تھا۔دوسرے یہ کہ دراز سفر سے اطلاع دے کر جب آئے تو اول رات میں آئے اور بغیر اطلاع آنا ہو تو دن میں آئے۔تیسرے یہ کہ دخل الرجل سے مراد اپنی بیوی کے پاس آنا ہے یعنی صحبت تو مطلب یہ ہوگا کہ مسافر گھر پہنچے دن میں اور اپنی اہلیہ کے پاس جائے اول شب میں تاکہ بقیہ شب اطمینان سے گزرے۔بہرحال یہ حدیث ان گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں جن میں حکم تھا کہ مسافر کو دن میں گھر آنا چاہیے۔(ازمرقات و اشعہ ولمعات)