۱؎ یعنی اگر مسافر تین یا زیادہ ہوں تو انتظام قائم رکھنے کے لیے اپنے میں سے ایک افضل اور تجربہ کار کو اپنا سردار بنائیں جو ہر چیز کا انتظام رکھے اور باقی ساتھی اس کے مشورہ پرعمل کریں اس میں برکت بھی ہوگی اور سفر میں آسانی بھی اس سردار کو چاہیے کہ اپنے کو ان ساتھیوں کا حاکم نہ سمجھے بلکہ خادم تصور کرے،نماز بھی وہ ہی پڑھائے جیساکہ بزاز نے بروایت حضرت ابوہریرہ مرفوعًا روایت کی کہ جب تم چند آدمی سفرکرو تم میں سے بڑا قاری(عالم)تمہاری امامت کرے اور جب وہ تمہاری امامت کرے تو وہ ہی تمہارا امیروسردار ہے۔ (مرقات)