۱؎ صحابہ جمع ہے صاحب بمعنی ساتھی کی اور فاعل کی جمع بروزن فعالہ اس کے سوا کہیں نہیں آئی۔ (مرقات)یہاں ساتھی سے مراد سفر کے ساتھی ہیں۔چار ہم سفر ساتھیوں کو اس لیے افضل فرمایا گیا کہ اگر ان میں سے ایک راستہ میں فوت ہو جائے اور ان بقیہ میں سے ایک کو اپنا وصی و منتظم کرجائے تو باقی دو اس وصیت کے گواہ بن سکتے ہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ پانچ ساتھی چار سے افضل ہیں بلکہ جس قدر ساتھی زیادہ ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔(اشعہ) جیسے جماعت نماز میں جس قدر ساتھی زیادہ ہوں اسی قدر اچھا۔
۲؎ پہلے کہا جاچکا ہے کہ سریہ چھوٹے لشکر کوبھی کہتے ہیں اور اس فوج کو بھی جس میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف نہ لے جائیں یہاں پہلے معنی میں ہے کیونکہ اس کے مقابل جیوش آرہا ہے۔
۳؎ یعنی بہتر یہ ہے کہ لشکر جرار چار ہزار سے کم نہ ہو زیادہ ہو تو بہتر ہے۔
۴؎ یعنی بارہ ہزار کا لشکر جرار کبھی کمی تعداد کی وجہ سے دشمن کے مقابل شکست نہیں کھائے گا کسی اور وجہ سے شکست کھا جائے جیسے آپس کے جھگڑے،امیر کی نافرمانی،بے صبری،مال غنیمت کی رغبت وغیرہ۔چنانچہ غزوہ حنین میں حضرات صحابہ نے اولًا ظاہری شکست کمی تعداد کی وجہ سے نہ کھائی بلکہ اپنی کثرت پر اعتماد کرنے رب تعالٰی سے بے توجہ ہوجانے کی وجہ سے کھائی،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَوْمَ حُنَیۡنٍ اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ"اس جنگ میں ہوازن سے مقابلہ تھا،مسلمان بارہ ہزار تھے، دس ہزار اہل مدینہ اور دو ہزار وہ مسلمانان مکہ جو فتح مکہ کے دن ایمان لائے تھے۔(مرقات) اولًا مسلمانوں کے قدم اکھڑے پھر جب مسلمانوں کی نظر گئی تو فتح پائی۔