Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
804 - 1040
حدیث نمبر804
روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ۲؎ اور تین سوار صحیح سوار ہیں ۳؎(مالک، ترمذی،ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ یعنی جنگل میں اکیلا مسافر آفات کے نرغہ میں ہوتا ہے،نماز باجماعت سے محروم ہے،ضرورت کے وقت اسے مددگار کوئی نہ ملے گا،بلاؤں آفتوں کے خطرے میں ہے خصوصًا اس زمانہ پاک میں جب کہ راستے پر خطر تھے اب اس امن کے زمانہ میں بھی ریل کے ڈبہ میں اکیلے سفرکرنے والے چلتی ٹرین میں لٹ گئے حتی کہ حکومت نے انٹر کلاس کی زنانہ سواریوں کو اجازت دی کہ وہ رات میں اپنی تھرڈ کلاس کی سہیلی کو اپنے ساتھ انٹر میں بٹھا سکتی ہیں سرکار کے فرمان ہمیشہ ہی مفید ہیں۔

۲؎ یعنی دو مسافر بھی آفات کے خطرے میں ہیں کہ اگر ایک بیمار ہوجائے تو دوسرا بے یارومددگار رہ جائے۔

۳؎ یعنی تین مسافر ہیں جنہیں صحیح معنی میں قافلہ کہا جاوے۔رکب اسم جمع ہے جیسے نفر اور رھط اور صحب اس لیے ارشاد ہوا کہ جماعت پر اﷲ کا ہاتھ(رحمت)ہے۔اس فرمان عالی میں بھی بڑی حکمتیں ہیں سفر میں کسی کی رضا قضا واقع ہوجائے تو باقی اور دو آسانی سے اسے سنبھال سکتے ہیں۔
شرح
۱؎ یعنی تمام سفروں جہاد وغیرہ میں صحابہ کرام کو آگے رکھتے تھے خود تواضع اور تعاون کے لیے پیچھے سفرکرتے تھے۔

۲؎ یعنی سرکار ابد قرار کے پیچھے رہنے میں یہ حکمتیں تھیں کہ جو مسافر کمزوری کی وجہ سے لشکر کے پیچھے رہ جاتا یا کسی مسافر کی کوئی چیز رہ جاتی وہ خود سرکار لے آتے تھے اس کے علاوہ تمام صحابہ کو سامنے رکھ کر ان کے لیے دعائے خیر فرماتے تھے۔سبحان اﷲ! ایسے رحیم و کریم نبی پر جان قربان۔شعر

چہ غم دیوار امت را کہ دارد چوں  توپشتی  بان	چہ باک از موج بحر آنرا کہ دارد نوح کشتی بان
Flag Counter