۱؎ یعنی جنگل میں اکیلا مسافر آفات کے نرغہ میں ہوتا ہے،نماز باجماعت سے محروم ہے،ضرورت کے وقت اسے مددگار کوئی نہ ملے گا،بلاؤں آفتوں کے خطرے میں ہے خصوصًا اس زمانہ پاک میں جب کہ راستے پر خطر تھے اب اس امن کے زمانہ میں بھی ریل کے ڈبہ میں اکیلے سفرکرنے والے چلتی ٹرین میں لٹ گئے حتی کہ حکومت نے انٹر کلاس کی زنانہ سواریوں کو اجازت دی کہ وہ رات میں اپنی تھرڈ کلاس کی سہیلی کو اپنے ساتھ انٹر میں بٹھا سکتی ہیں سرکار کے فرمان ہمیشہ ہی مفید ہیں۔
۲؎ یعنی دو مسافر بھی آفات کے خطرے میں ہیں کہ اگر ایک بیمار ہوجائے تو دوسرا بے یارومددگار رہ جائے۔
۳؎ یعنی تین مسافر ہیں جنہیں صحیح معنی میں قافلہ کہا جاوے۔رکب اسم جمع ہے جیسے نفر اور رھط اور صحب اس لیے ارشاد ہوا کہ جماعت پر اﷲ کا ہاتھ(رحمت)ہے۔اس فرمان عالی میں بھی بڑی حکمتیں ہیں سفر میں کسی کی رضا قضا واقع ہوجائے تو باقی اور دو آسانی سے اسے سنبھال سکتے ہیں۔