| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم تاریکی شب میں سفر کیا کرو ۱؎ کیونکہ رات میں زمین لپٹ جاتی ہے ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ اب بھی اہل عرب رات میں سفر زیادہ کرتے ہیں،سمندری جہاز رات میں تیز چلائے جاتے ہیں،تمام حجاج سے بعد نماز عشاء کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آرام کرو جیساکہ ہم نے تجربہ کیا۔دلجہ رات کی اندھیری کو کہتے ہیں اسی سے ہے ادلاج۔ ۲؎ اس طرح کہ رات کا مسافر یہ ہی سمجھتا ہے کہ ابھی میں نے سفرکم کیا ہے مگر ہوجاتا ہے زیادہ۔اس فرمان عالی کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ رات میں بھی سفر کیا کرو صرف دن کے سفر پر قناعت نہ کیا کرو، بعض احادیث میں ہے کہ اول دن اور اول رات میں سفر کرو۔(اشعہ)