| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت عامر ابن سعد سے فرماتے ہیں میں قرظہ ابن کعب اور ابو مسعود انصاری کے پاس ایک شادی میں گیا ۱؎ تو ناگاہ کچھ بچیاں گا رہی تھیں میں نے کہا اے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابیو اور اے بدر والو! تمہارے پاس یہ کام کیا جارہا ہے ۲؎ تو وہ دونوں صاحب بولے اگر تم چاہو بیٹھو اور ہمارے ساتھ سنو اور اگر چاہو چلے جاؤ ہم کو شادی کے موقع پر لہو و لعب کی اجازت دی گئی ہے ۳؎(نسائی)
شرح
۱؎ عامر ابن سعد ابن ابی وقاص مشہور تابعی ہیں اور قرظہ ابن کعب(ق،ر،ظ)سے اور ابو مسعود دونوں صحابی ہیں بدری ہیں۔ ۲؎ یعنی اسلام میں گانا مطلقًا حرام ہے اور تمہارے سامنے بچیاں گارہی ہیں تم دونوں جلیل الشان صحابی منع نہیں کرتے لوگ تمہارے منع نہ کرنے کی وجہ سے اسے جائز سمجھیں گے یہاں جمع دو کے لیے بولی گئی۔ ۳؎ یعنی شادی بیاہ میں ننھی بچیوں کا جائز گیت گانے کی اجازت ہے جائز کام کو ہم کیوں روکیں۔