| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ متعہ شروع اسلام تھا کہ کوئی شخص کسی شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی۱؎ تو کسی عورت سے اس وقت تک کے لیے نکاح کر لیتا کہ سمجھتا میں اتنا ٹھہروں گا وہ عورت اس کے سامان کی حفاظت کرتی اس کا کھانا درست کرتی ۲؎حتی کہ یہ آیت کریمہ اتری مگر اپنی بیویوں پر یا ان پر جن کے وہ مالک ہیں ۳؎ فرمایا حضرت ابن عباس نے کہ دو کے سوا تمام شرمگاہیں حرام ہیں ۴؎(ترمذی)
شرح
۱؎ جو اس نو وارد کا انتظام کرتا اور اسے کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی جو یہاں اس کا انتظام کرے۔ ۲؎ شی شوی سے بنا بمعنی بھوننا اس لیے بھنے گوشت کو لحم مشوی کہا جاتا ہے یہاں بمعنی کھانا پکانا ہے،بعض نے فرمایا کہ شی بمعنی اشیاء ہے یعنی اسباب۔(مرقات) ۳؎ یعنی اس آیت کے نزول پر متعہ حرام ہوگیا کیونکہ ممتوعہ عورت نہ بیوی ہے نہ لونڈی تو لامحالہ رنڈی زانیہ ہو گی اور اسلام میں زنا تمام قسموں کے ساتھ حرام ہوچکا ہے۔ ۴؎ خلاصہ یہ ہے کہ اب سوائے بیوی و لونڈی کے تمام عورتیں حرام ہیں اور ممتوعہ عورت ان دونوں کے سوا ہے اس لیے ممتوعہ عورت کو اس متاعی خاوند کی میراث نہیں ملتی نہ اس عورت کی خاوند کو نہ ممتوعہ عورت سے، روافض کے ہاں حرمت مصاہرت ثابت ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس نے متعہ کی حلت کے خیال سے رجوع فرمالیا۔ مسلم شریف میں ہے کہ حضرت علی نے سنا کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس متعہ حلال جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا اے ابن عباس خبردار میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود سنا کہ آپ نے خیبر کے دن متعہ اور پالتو گدھا حرام فرمایا، اسی مسلم شریف میں بروایت عروہ ابن زبیر ہے کہ عبداﷲ ابن زبیر نے مکہ معظمہ میں فرمایا بعض آنکھوں اور دل کے اندھے اب تک متعہ کے جواز کا فتویٰ دے رہے ہیں تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں متعہ ہوتا تھا اس پر حضرت زبیر نے فرمایا کہ اچھا تم اپنے پر تجربہ کرکے دیکھ لو اگر تم متعہ کرو تو میں تم کو بھی سنگسار کردوں، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابن عباس نے جناب علی کے فرمان پر متعہ سے رجوع نہ کیا بہت عرصہ بعد رجوع فرمایا۔(مرقات) تمام صحابہ حضرت ابن عباس کے فتویٰ جواز متعہ کے خلاف ہوگئے تھے حتی کہ ان کے خلاف شعر لکھے گئے جن میں سے دو شعر یہ ہیں۔ ھل لك رخصۃ الاطراف آنسہ تکون مثواك حتی مصدر الناس قد قلت للشیخ لما طال محبسہ یا صاح ھل لك فی فتویٰ ابن عباس حضرت ابن عباس نے یہ شعر سن کر فرمایا قسم رب کی میں نے متعہ کی حلت کا فتویٰ نہ دیا،متعہ تو خون،سور،مردار کی طرح حرام ہے(مرقات)