۱؎ یہاں عذاب سے مراد تکلیف دہ ہے نہ کہ سزا کیونکہ بعض سفر تو ثواب ہیں جیسے سفر جہاد،سفر حج،سفر طلب علم وغیرہ مگر یہ سارے سفر تکلیف دہ ضرور ہیں جن میں وہ تکالیف ہوتی ہیں جو آگے مذکور ہیں۔
۲؎ یعنی عمومًا سفر میں انسان وقت پر کھانے،وقت پر سونے،وقت پر باجماعت نماز گھر کی طرح نہیں کرسکتا۔چنانچہ اب بھی یہ دیکھا جاتا ہے اگرچہ اب ریل،بس،ہوائی جہازوں کے سفر میں بڑی آسانیاں ہوچکی ہیں۔
۳؎ نہمہ کے معنی ہیں بلوغ الہمتہ اور وجھہ سے مراد اپنی سفر کی جہت ہے یعنی جس طرف سفر کرکے گیا تھا تو جس مقصد کے لیے گیا تھا سفر میں وہ مقصد پورا ہوجائے۔(مرقات)
۴؎ تاکہ نماز کی جماعتیں حقوق کی ادائیگی اچھی طرح سے ہوسکیں،بعض علماء نے فرمایا کہ دنیاوی سفروں کے لیے یہ فرمان ہے۔سفرحج و سفرجہاد وغیرہ کا یہ حکم نہیں مدینہ منورہ یا مکہ معظمہ میں جتنی حاضری نصیب ہوجائے بہتر ہے اسی لیے یہاں نھمتہ فرمایا۔نہمہ کہتے ہیں دنیاوی ضرورت و حاجت کو،فقیر اس کو ترجیح دیتا ہے،حاکم و بیہقی نے بروایت حضرت عائشہ بجائے نہمتہ کے حجہ روایت کی یعنی حج سے فارغ ہوکر جلد لوٹو جیساکہ مرقات میں ہے مگر مدینہ آخر مدینہ ہی ہے وہ تو ہر مؤمن کا دیس ہے پردیس ہے ہی نہیں جیسا سکون قلب اداء عبادات میں وہاں میسر ہوتا ہے گھرمیں میسر نہیں ہوتا۔