| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں اس حال میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۱؎ کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص اونٹ پر آیا ۲؎ تو دائیں بائیں طرف مارنے لگا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جس کے پاس بچی ہوئی زائد سواری ہو تو وہ اس پر خرچ کرے جس کے پاس سواری نہیں۳؎ اور جس کے پاس بچا ہوا توشہ ہو تو وہ ا س پر خرچ کرے جس کے پاس توشہ نہیں۴؎ فرماتے ہیں کہ حضور نے ہر قسم کے مال کا ذکر فرمایا ۵؎ حتی کہ ہم سمجھے کہ ہم میں سے کسی کو بچے ہوئے میں کوئی حق ہی نہیں ۶؎(مسلم)
شرح
۱؎ وہ اونٹ دبلا اور تھکا ہوا تھا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۲؎ اپنے اونٹ کو دو طرف مارنے لگا کیونکہ وہ چلتا نہ تھا تھک گیا تھا یا باہنے دائیں نظرمارنے نگاہ دوڑانے لگا تاکہ کوئی اس کا حال زار دیکھ کر اس کی مدد کرتا ہے یا نہیں یعنی وہ شخص شریف النفس تھا کسی سے سوال نہ کیا بلکہ امداد کی امید پر ادھر ادھر دیکھنے لگا شاید یہ شخص اپنے وطن میں امیر آدمی تھا یہاں سفر میں قابل مدد ہوگیا تھا۔(مرقات) اس جملہ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دائیں بائیں دوڑانے لگا پریشانی کی وجہ سے اسے کچھ سوجھتا نہ تھا غرضیکہ وہ سخت پریشان تھا۔ ۳؎ فلیعد بنا ہے اعادۃ سے بمعنی لوٹانا یعنی جس کے پاس سواری اپنی ضرورت سے زیادہ ہو وہ اس کی طرف لوٹا دے جس کے پاس سواری نہیں یا ہے مگر ناکارہ ہوگئی اور ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ اعداد سے بنا ہو بمعنی تیار کرنا مہیا کرنا یعنی ایسا غنی آدمی اپنی زائد سواری ایسے بے کس کے لیے مہیا کردے،بہرحال مطلب یہ ہی ہے کہ اسے دے دے اسے مالک بنا دے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سب کا درد ہے۔ ۴؎ غالبًا یہ شخص بے توشہ بھی ہوچکا تھا جس کی لوگوں کو خبر نہ ہوئی اس لیے حضور نے سواری کے ساتھ توشہ کا بھی ذکر فرمایا۔ ۵؎ جیسے کپڑا،جوتا،مشکیزہ،خیمہ،درہم،دینار وغیرہ ہر قسم کا مال۔ ۶؎ یعنی حضور نے ایسی خیرات کو ایسی اہمیت دی کہ ہم سمجھے کہ ضرورت سے زیادہ مال ہماری ملک ہی نہیں۔ بس اپنے پر خرچ کرنے سے جو بچے وہ دوسرے کو دے دینا واجب ہے۔خیال رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم ہماری جانوں ہمارے مالوں کے مالک مطلق ہیں جیسے مولیٰ اپنے غلام کے جان و مال کا مالک ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیۡنَ مِنْ اَنۡفُسِہِمْ"یہاں اولیٰ کے معنی قریب تر بھی کیے گئے ہیں اور مالک تر بھی،دیکھو ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت کعب وغیرہ تین صاحبوں کو بائیکاٹ کے زمانہ میں فرمادیا کہ اپنی بیویوں کے پاس نہ جاؤ وہ بیویاں ان کی منکوحہ تھیں مگر ان سے اختلاط منع فرمادیا،یہ ہے حضور کی ملکیت کچھ عرصہ حکم رہا کہ اپنی قربانیوں کے گوشت تین دن سے زیادہ استعمال نہ کرو تو یہ استعمال ممنوع ہوگیا،پھر زیادہ استعمال کی اجازت دی تب جائز ہوا۔غرضیکہ ہم سب مسلمان حضور انور کے لونڈی غلام ہیں حضور ہمارے مالک اگر وہ ہم کو اپنی عبدیت و غلامیت میں قبول فرما لیں تو ہمارے نصیب کھل جائیں۔ایک بار حضرت مرشدی مولائی مولانا نعیم الدین صاحب قدس سرہ نے ارشاد فرمایا کہ حضور پر زکوۃ فرض نہیں،میرے نزدیک اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حضور مالک ہیں سارے مسلمان حضور کے لونڈی غلام،مالک اپنے غلاموں کو زکوۃ نہیں دے سکتا،چونکہ حضور کے لیے مصرف زکوۃ موجود نہیں اس لیے آپ پر زکوۃ فرض نہیں،عرض کیا پھر تو ہم پر بھی زکوۃ فرض نہیں ہونی چاہیے کہ غلاموں پر زکوۃ فرض نہیں،فرمایا ہم لوگ عبد ماذون ہیں اور بعض خاص حالات میں ماذون غلام پر زکوۃ ہوجاتی ہے۔ماذون غلام وہ ہے جسے کاروبار کی اجازت مولیٰ نے دے دی ہو،اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا۔شعر بندگانش حور وغلمان و ملک چاکر انش سبز پوشان فلک اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضورانور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم وجوبی تھا جس سے ان حضرات کا بچاہوامال خیرات کردینا فرض کردیا گیا تھا۔