Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
78 - 1040
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 78
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے ساتھ بیویاں نہ تھیں تو ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی ہوجائیں۱؎ اس سے ہم کو منع فرمایا ۲؎ پھر ہم کو متعہ کرلینے کی اجازت دی ۳؎ تو ہم میں سے ایک کسی عورت سے کپڑے کے عوض ایک وقت تک نکاح کرلیتا تھا ۴؎ پھر عبداﷲ نے یہ آیت پڑھی اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ جانو جو اﷲ نے تمہارے لیے حلال کیں ۵؎(مسلم بخاری)
شرح
۱؎ اس حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی قوت بہادری،تقویٰ اور خوف خدا کا پتہ لگا کہ شہوت کا غلبہ ہے،بیوی ساتھ نہیں تو زنا تو کیا ہاتھ سے منی نکالنے کا بھی خیال نہیں فرماتے،خصی ہو کر اپنی کو ناقص کرلینا منظور ہے مگر گناہ منظورنہیں۔

۲؎ معلوم ہوا کہ انسان کا خصی کرنا حرام ہے خواہ آزاد ہو یا غلام جانور کا خصی کرنا جائز ہے جب کہ اس میں فائدہ ہو۔

۳؎ یہ وجہ تھی متعہ کی عارضی اجازت کی کہ شراب کی طرح یہ بھی آہستگی سے حرام کیا گیا۔

۴؎ خیال رہے کہ متعہ اور نکاح مؤقت کے الفاظ میں فرق ہوتا ہے متعہ میں اتمتع کہتے ہیں اور نکاح وقتی میں تزوجت الی فلان مدۃ بولتے ہیں۔ متعہ کی حرمت پر اجماع امت ہے نکاح مؤقت کو جمہور علماء حرام فرماتے ہیں، امام زفر فرماتے ہیں کہ نکاح درست ہے اور یہ مدت کی شرط باطل یعنی وقتی نکاح دائمی ہوگا۔

۵؎ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود متعہ یا نکاح مؤقت کے جواز کے قائل تھے لیکن یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضرت عبداﷲ ابن عباس اور ابن مسعود دونوں متعہ کے جواز کے قائل تھے مگر دونوں اس سے رجوع فرماگئے عبداﷲ ابن عباس نے تو سعید ابن جبیر کے سمجھانے پر رجوع کیا اور حضرت ابن مسعود نے ان کے بعد غرضکہ جب ان دونوں کو اس کے ناسخ کا پتہ لگا رجوع کرلیا حضرت علی تو متعہ کی حلت کے قائل تھے ہی نہیں وہ اول ہی منسوخ مانتے تھے، تعجب ہے کہ روافض متعہ کی حلت میں حضرت ابن مسعود کا پہلا قول تو مان لیتے ہیں اور حضرت علی کا قول نہیں مانتے جناب علی متعہ کو حرام فرماتے ہیں۔
Flag Counter