۱؎ مزامیر جمع ہے مزمار کی یہ زمار سے بنا بمعنی آراستگی آواز،اصطلاح میں ہر باجہ مزمار ہے مگر جھانجھ تو مطلقًا حرام ہے،جھانجھ کے علاوہ دیگر باجے تاشہ نقارہ طبل وغیرہ اگر لہوولعب کے لیے ہوں تو حرام ہیں ضرورۃً جائز ہیں جیسے جہاد میں طبل جنگ،اعلان نکاح کے لیے دف یا تاشہ۔سحری و افطاری کے لیے طبل یا نقارہ بجانا کہ یہ جائز ہیں اس کی کچھ بحث کتاب النکاح میں گزر چکی ہے،یہاں مرقات نے بھی کچھ بحث کی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جھانجھ کی حرمت بعینہ دوسرے باجوں کی حرمت لغیرہ۔قوالی اور اس کے ڈھول کا مسئلہ ہماری کتاب جاء الحق حصہ اول میں ملاحظہ کرو وہاں ہم نے اس کی نفیس بحث کی ہے۔