۱؎ آپ کا نام قیس ابن عبید اللہ ہے،کنیت ابو بشیر انصاری مزنی ہیں،یہ تو صاحب مشکوۃ نے اکمال میں فرمایا مگر صاحب استیعاب کہتے ہیں کہ آپ کے نام کی تحقیق نہ ہوسکی آپ کی وفات واقعہ حرہ کے بعد ہوگئی،آپ نے بہت ہی عمر پائی۔
۲؎ تانت کا ہار تو اس لیے کٹوادیا کہ تانت سے ہر جانور کی گردن کٹتی ہے اور اس سے سخت تکلیف ہوتی ہے، دوسرے ہار کٹوانے کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں:ایک یہ کہ ان ہاروں میں گھونگروں یا جھانجر یا اور بجنے والی چیز باندھی جاتی تھیں جو کہ باجہ ہے اور باجے سے فرشتے رحمت نہیں آتے۔دوسرے یہ کہ جاہلیت کے لوگ یہ ہار جانور سے نظر بد بچانے کے لیے بطور گنڈہ باندھتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ ہار نظر بد سے بچالیں گے یہ جاہلانہ مشرکانہ عمل تھا۔تیسرے یہ کہ ان ہاروں میں باجہ یا اور آواز دینے والی چیزیں ہوتی تھیں جن کی آواز سے دشمن ان غازیوں کی نقل و حرکت پر مطلع ہوجاتا اس لیے یہ جنگی تدبیر کے خلاف تھا۔چوتھے یہ کہ ہار اونٹ کا گلا گھونٹ دیتے تھے جب وہ درخت سے کچھ پتے توڑنے کے لیے گردن اٹھاتا تھا،بہرحال اس ممانعت میں بہت سی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ظاہر یہ ہے کہ قاصد کے ذریعہ پیغام اونٹ والوں کو بھیجا کہ اپنے اپنے اونٹ کی گردن سے ہار کھول دیں ممکن ہے کہ خود قاصد کو ہی حکم دیا ہو کہ وہ خود ہار توڑ دے۔(ازمرقات )خیال رہے کہ اسماء الہیہ یا جائز دعاؤں کے گنڈے کرانا ڈالنا بالکل درست ہے،ناجائز منتروں کے گنڈے حرام ہیں بتوں کے نام کے گنڈے کفر ہیں۔