Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
788 - 1040
حدیث نمبر788
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ فرشتے ان ساتھیوں کے ساتھ نہیں رہتے جن میں کتا ہو اور نہ جن میں جھانجھ ہوا ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہاں ساتھیوں سے مراد سفر کے ساتھی ہیں،کتے سے مراد وہ کتا ہے جو شوقیہ رکھا گیا ہو بلاضرورت،شکار یا حفاظت کے کتے کا یہ حکم نہیں۔فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو خصوصیت سے سفر میں مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں خصوصًا غازی حاجی مسافروں کے ہمراہ۔جرس وہ گھنگرو باجہ وغیرہ جو اونٹ گھوڑوں کی گردن میں محض آواز کے لیے باندھے جاویں ہمارے ہاں یہ مکروہ تنزیہی ہیں،بعض علماء شام فرماتے ہیں کہ چھوٹے گھنگرو جائز ہیں بڑے اور بہت آواز والے مکروہ،ضرورۃً یہ بھی جائز ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ نے ایک بچی کے پاؤں سے آواز والے جھانجن اتروادیئے،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت زبیر کے پاؤں سے جھانجر اتروا دیئے اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہر باجے کے ساتھ شیطان ہے۔(مرقات)
Flag Counter