۱؎ دینی و دنیاوی دونوں نقصان۔دینی نقصان تو یہ کہ اکیلا آدمی سفر میں جماعت نہیں کرسکتا۔دنیاوی نقصان یہ کہ اکیلے میں وحشت بھی ہوتی ہے،سفر کے ضروریات بھی پورے نہیں ہوتے،بیماری میں تو بہت ہی تکلیف ہوتی ہے،اگر موت واقع ہوجائے تو کوئی وطن میں خبر پہنچانے والا بھی نہیں ہوتا۔
۲؎ یعنی اگر اکیلے سفرکرنے کے نقصانات کما حقہ معلوم ہوں تو پیدل تو کیا سوار بھی اکیلے سفر کرنے کی جرات نہ کرے لہذا اس میں پیدل کو اکیلے سفر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔خیال رہے کہ اُس زمانہ میں راستے پر امن نہ تھے اکیلے سفر نہایت خطرناک تھا اب ریل ہوائی جہاز موٹروں کی وجہ سے وہ خطرے نہیں ہیں لہذا اب احکام نرم ہوں گے،نیز رات کا اکیلے سفر اس زمانہ میں زیادہ خطرناک تھا وہاں یہ مثل مشہور تھی اللیل اخفی بالویل اس لیے خصوصیت سے رات ہی میں سفر کا ذکر ہوا۔