۱؎ رایۃ بنا ہے رای سےبمعنی دیکھنا دکھانا اور لواء بنا ہے لوی سے بمعنی لپیٹنا یا گاڑنا،اصطلاح میں چھوٹے جھنڈے کو لواء کہتے ہیں جو کبھی خود لڑنے والے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور بڑے جھنڈے کو رایۃ کہا جاتا ہے جو لشکر جرار کا نشان ہوتا ہے اور اس کے برعکس بھی استعمال ہوتا ہے یعنی چھوٹا جھنڈا رایۃ اور بڑا جھنڈا لواء یہاں پہلے معنی میں حضور کے بڑے جھنڈے کا نام رایۃ تھا اسے ام اطرب بھی کہتے تھے،اکثر لواء بڑے جھنڈے کو بولتے ہیں ولواءالحمد یومئذٍ بیدی قیامت کے دن حمد کا جھنڈا ہمارے ہاتھ ہوگا،سیاہ سے مراد بھلسا ہے تیز سیاہ نہیں،دیکھو مرقات و اشعہ۔