| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی تلوار کا قبضہ چاندی کا تھا ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد، نسائی،دارمی)
شرح
۱؎ قبیعہ بروزن سیکنہ تلوار کے قبضہ کا کنارہ جو پکڑتے وقت مٹھی سے باہر رہتا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلوار وغیرہ کو چاندی سے آراستہ کرنا جائز ہے،بعض علماء نے اس حدیث کے بنا ء پر فرمایا کہ گھوڑے کی کاٹھی اور زین کو چاندی سے آراستہ کرسکتے ہیں،بعض علماء نے اس کا انکار فرمایا،وہ فرماتے ہیں کہ تلوار اور چیز ہے کاٹھی دوسری چیز،کاٹھی میں چاندی استعمال کرنا جانور کو آراستہ کرنا ہے۔(مرقات)