| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے ایک خچر ہدیۃً پیش کیاگیا تو حضور اس پر سوار ہوئے ۱؎ توحضرت علی نے عرض کیا ہم بھی گدھے کو گھوڑی پر چڑھایا کرتے تو ہمارے پاس بھی اس جیسے جانور ہوجاتے ۲؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کام وہ لوگ کرتے ہیں جو جانتے نہیں ۳؎(ابوداؤد،نسائی )
شرح
۱؎ اس خچر کا نام دلدل تھا جو شاہ اسکندریہ مقوقس نے حضور انور کی خدمت میں ہدیۃًبھیجا تھا اور حضور نے اس پر سواری فرمائی۔(اشعہ) ۲؎ کیونکہ خچرمضبوط جانور ہے اس سے بہت دشوار کام بھی بہ آسانی ہوجاتے ہیں اور یارسول اﷲ یہ آپ کو مرغوب بھی ہے کہ حضور نے اس پر سواری فرمائی ہے۔ ۳؎ یعنی جو لوگ احکام شرعی سے ناواقف ہیں وہ یہ کام کرتے ہیں۔خیال رہے کہ خچر بنانا معززین کو جائز نہیں مگر خچر پر سواری کرنا اس سے کام لینا بلاکراہۃً جائز ہے جیسے جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں مگر بنی ہوئی تصویر کا فرش یا بستر میں استعمال بالکل جائز ہے،رب تعالٰی نے خچر کا ذکر اپنے انعامات کے سلسلہ میں کیا کہ فرمایا:"وَالْخَیۡلَ وَ الْبِغَالَ وَالْحَمِیۡرَ لِتَرْکَبُوۡہَا وَزِیۡنَۃً"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔(مرقات)