۱؎ اس طرح کہ آپ کے اقوال اعمال احوال بلکہ میلان طبیعت خدا تعالٰی کے حکم سے تھا نفسانی یا شیطانی طرح پر نہ تھا اس لیے حضور کی کسی چیز پر اعتراض کفر ہے حتی کہ انبیاء کرام کی خطائیں بھی رب تعالٰی کی طرف سے ہوتی ہیں جن پر مخلوق کو لاکھوں عطائیں ملتی ہیں،دیکھو ہماری تفسیرنعیمی۔رب فرماتاہے:"یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ" آپ کا ہر قول و عمل رجحان طبیعت تبلیغ ہے دیکھو مرقات۔
۲؎ یعنی ہم اہل بیت نبوت کو بھی وہ احکام دیئے جو عام مسلمانوں کے دیئے سواء ان تین حکموں کے جو ابھی بیان ہورہے ہیں۔
۳؎ اس طرح کہ مبالغہ اور بہت احتیاط سے وضو کرنا عام مسلمانوں کے لیے مستحب ہے مگر ہم اہل بیت کے لیے فرض ہے یہ فرضیت اہل بیت کی خصوصیت ہے۔(مرقات)
۴؎ اس طرح بنی ہاشم خصوصًا اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم زکوۃ و فطرہ نذر وغیرہ واجب صدقے نہیں لے سکتے اگرچہ غریب ہوں حتی کہ زکوۃ کا عامل اگر غنی بھی ہو تو زکوۃ سے اسے تنخواہ دی جائے گی لیکن اگر عامل سید ہو تو اسے زکوۃ سے اجرت بھی نہیں دے سکتے یہ ہے اس پاک و صاف نسب کی طہارت و نجابت ۔شعر
ہے صدقہ میل پھر اس پاک و ستھرے کو روا کیوں ہو کہ دنیا کھا رہی ہے جس کے آل پاک کا صدقہ
۵؎ یعنی ہم اہل بیت خچر نہ بنائیں۔خیال رہے کہ خچر بنانا بلا وجہ عوام کے لیے مکروہ ہے حضور کی اولاد کے لیے حرام ہے کیونکہ خچر بنانے میں اول تو نسل کشی ہے کہ خچر کی نسل نہیں چلتی۔دوم اعلیٰ سے ادنیٰ حاصل کرنا ہے کہ گھوڑا اعلیٰ ہے خچر ادنیٰ اسی لیے جہاد میں غازی کے گھوڑے کا تو حصہ ہوتا ہے اس کے خچر کا حصہ نہیں ہوتا مگر چونکہ کبھی خچر بھی کام آتا ہے اس لیے خچر بنانا امت کے لیے حرام نہیں مگر اہل بیت اطہار کے لیے بہت حرام۔اس حدیث میں روافض کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم باطنی علوم اہل بیت اطہار کو دے گئے جن کی خبر دوسروں کو نہیں حتی کہ قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی انہیں کے پاس رہا۔ (مرقات)