Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
775 - 1040
حدیث نمبر775
روایت ہے حضرت ابو وھب جشمی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گھوڑا پالو ۱؎  اور اس کی پیشانی کے بالوں اور ان کی پچھاڑی یا فرمایا ان کی سیرین پر ہاتھ پھیرو ۲؎  اور انہیں ہار پہناؤ ۳؎ اور تانت کے ہار نہ پہناؤ ۴؎ (ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎  بہ نیت جہاد اور بہ نیت خدمت دین آج کل امن کے زمانہ میں بھی مسلمان اس لیے گھوڑے پالے کہ اگر کبھی اللہ نے موقعہ دیا تو اس پر جہادکروں گا۔مسلمانوں کی خدمت کروں گا یا یہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو ان شاء الله ثواب ملے گا ۔

۲؎  اعجاز جمع ہے عجز کی بمعنی پچھلا حصہ اور اکفال جمع ہے کفل کی،کاف کے فتحہ سے بمعنی سرین چوتڑ یہاں دونوں لفظوں سے مراد سرین ہیں۔یعنی گردو غبار سے پاک و صاف رکھنے کے لیے ان کے تمام جسم خصوصًا سرین پر ہاتھ کپڑا کھریرا پھیرتے رہو اور انہیں ملتے ولتے رہو،اب بھی گھوڑے والے خصوصًا عرب گھوڑوں کی بہتر خدمت کرتے ہیں،انہیں اولاد کی طرح عزیز رکھتے ہیں،گھوڑے کی طرح وفادار جانور کوئی نہیں یہ جنگ وغیرہ خطرناک موقعوں پر مالک کو بچانے کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے بعض موقعہ پر اپنے سوار کو حیران کن طریقہ سے دشمن کے نرغہ سے نکال لاتا ہے۔

۳؎  یعنی گھوڑوں کی گردن میں موتی منکوں پھولوں وغیرہ کے خوبصورت ہار باندھو کہ گھوڑوں کے حسن سے دین کی رونق ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دینی چیزوں کو آراستہ کرنا سنت سے ثابت ہے،مسجدیں سجانا،قرآن مجید پر اعلیٰ غلاف چڑھانا،علماء کا اچھا لباس پہننا،کعبہ معظمہ کو قیمتی غلاف پہنانا،روضہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر شاندار پردے ڈالنا،بزرگوں کی خانقاہوں اور اولیاء اللہ کے مزارات پر زینت کرنا،مزارات اولیاء پر چادر ڈالنا سب کچھ اسی لیے ہے کہ ان سے دین کی شان ہے یہ سب چیزیں اس حدیث سے بھی ماخوذ ہیں۔مزارات کی چادروں کو علامہ ابن عابدین نے شامی شریف میں مستحب فرمایا ہے،عوام کی قبور جن سے رونق دین وابستہ نہیں ان پر تکلفات نہ کیے جائیں کہ محض عبث ہیں۔غازی لوگ تلواروں،بندوقوں،توپوں کو ہار پہناتے ہیں،خود میں نے جہاد کشمیر کے موقعہ پر پٹھانوں اور فوجیوں کو دیکھا ہے جب کہ پاکستان نیا نیا بنا تھا اور کشمیر میں جنگ لڑی جارہی تھی،ان چیزوں کو حرام کہنا حماقت ہے۔

۴؎  کیونکہ تانت سے گردن کٹتی ہے گھوڑے کو تکلیف ہوتی ہے یا اس لیے کہ کفار کا عقیدہ تھا کہ تانت گلے میں باندھنے سے گھوڑے کو نظر نہیں لگتی تو یہ عمل ان سے تشبیہ ہے۔(مرقات)
Flag Counter