Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
774 - 1040
حدیث نمبر774
روایت ہے حضرت عتبہ ابن عبدسلمی سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نہ تو گھوڑے کی پیشانی کے بال کاٹو ۱؎  نہ گردن کے بال اور نہ ان کی دم کیونکہ ان کی دم ان کے مورچھل(پنکھے)ہیں ۲؎  اور ان کی گردن کے بال ان کے کمبل ہیں۳؎  اور ان کی پیشانی کے بالوں میں خیر وابستہ ہے ۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  لاتقصوا  قص سے بنا بمعنی قینچی یا چاقو سے کاٹنا یعنی گھوڑے کی گردن اور پیشانی کے بال رہنے دو انہیں نہ کاٹو اس حکم کی وجہ آگے ارشاد ہورہی ہے۔

۲؎  جن کے ذریعہ گھوڑے اپنے جسم سے مکھی مچھر اڑاتے ہیں،دم کی حرکت سے وہ تندرست بھی رہتے ہیں اس سے حسین بھی معلوم ہوتے ہیں۔

۳؎  جن کے ذریعہ ان کے جسم گرم رہتے ہیں اور اس گرمی سے تندرست رہتے ہیں اور اس گرمی سے ان کی تندرستی قائم رہتی ہے۔دفاء وہ کمبل جسے اوڑھا کر کسی کو گرمی پہنچائی جائے۔(مرقات وغیرہ )

۴؎  معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر دینی و دنیاوی چیز کا علم بخشا ہے،دیکھو دم کا مورچھل ہونا،گردن کے بالوں کا کمبل ہونا یہ دنیاوی چیزیں ہیں اور پیشانی کے بالوں میں بھلائی ہونا یہ دینی چیز ہے حضور کو دونوں معلوم ہیں،یونہی گھوڑے کے حالات کا علم ان ہی لوگوں کو ہوتا ہے جنہیں اس فن میں مہارت ہو آج لوگ بہت محنت سے گھوڑوں کے ماہر بنتے ہیں رب تعالٰی نے سب کچھ خود ہی حضور کو سکھادیا ہے۔حضرات انبیاء کرام کے علوم صرف دین سے محدود نہیں ہوتے دنیا و دین ہر ایک پر حاوی ہوتے ہیں۔
Flag Counter