Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم
772 - 1040
حدیث نمبر772
روایت ہے حضرت ابو وہب جشمی سے ۱؎  فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم اختیار کرو ہر سرخ پنج کلیان سفید پیشانی والا یا صاف سرخ پنج کلیان ۲؎  یا کالا پنج کلیان ۳؎  (ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎  آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ہی نام ہے،جشم ابن معاویہ کی اولاد میں ہیں اس لیے آپ کو جشمی کہا جاتا ہے۔

۲؎  تیز سرخ گھوڑے کو کمیت کہتے ہیں اور ہلکے سرخ کو اشقر۔اغر کے معنی ہیں چمکدار،اب سفید پیشانی والے گھوڑے کو اغر کہتے ہیں کہ اس کی پیشانی چمکتی ہے۔

۳؎  خلاصہ یہ ہے کہ سب سے بہتر تو وہ گھوڑا ہے جس کا رنگ تیز سرخ ہو پیشانی سفید چمکدار ہاتھ پاؤں سفید،پھر وہ گھوڑا  جس کا رنگ ہلکاسرخ ہوپیشانی چمکدار ہاتھ پاؤں سفید،پھر وہ گھوڑا جس کا  رنگ سیاہ ہو پیشانی چمکیلی ہاتھ پاؤں سفید۔خیال رہے کہ پچھلی حدیث میں ادھم یعنی سیاہ کو کمیت یعنی سرخ پر مقدم رکھا گیا تھا یہاں اس کے برعکس ہے کہ سرخ کو سیاہ پر مقدم فرمایا وہاں وہ کالا مراد تھا جو اقرع بھی ہو ارثم بھی۔
Flag Counter