۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کی کنیت ہی نام ہے،جشم ابن معاویہ کی اولاد میں ہیں اس لیے آپ کو جشمی کہا جاتا ہے۔
۲؎ تیز سرخ گھوڑے کو کمیت کہتے ہیں اور ہلکے سرخ کو اشقر۔اغر کے معنی ہیں چمکدار،اب سفید پیشانی والے گھوڑے کو اغر کہتے ہیں کہ اس کی پیشانی چمکتی ہے۔
۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ سب سے بہتر تو وہ گھوڑا ہے جس کا رنگ تیز سرخ ہو پیشانی سفید چمکدار ہاتھ پاؤں سفید،پھر وہ گھوڑا جس کا رنگ ہلکاسرخ ہوپیشانی چمکدار ہاتھ پاؤں سفید،پھر وہ گھوڑا جس کا رنگ سیاہ ہو پیشانی چمکیلی ہاتھ پاؤں سفید۔خیال رہے کہ پچھلی حدیث میں ادھم یعنی سیاہ کو کمیت یعنی سرخ پر مقدم رکھا گیا تھا یہاں اس کے برعکس ہے کہ سرخ کو سیاہ پر مقدم فرمایا وہاں وہ کالا مراد تھا جو اقرع بھی ہو ارثم بھی۔