۱؎ ادھم تیز سیاہ،اقرح وہ گھوڑا جس کی پیشانی پر کچھ سفیدی ہو،ارثم وہ گھوڑا جس کی ناک یا اوپری ہونٹ سفید ہو،جس گھوڑے میں یہ تین وصف جمع ہوں وہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کا ہے۔غالبًا ایسا گھوڑا طاقتور بہادر اور وفادار ہوتا ہوگا یا کوئی اور وجہ ہوگی۔
۲؎ یعنی اگر گھوڑے میں یہ مذکورہ تین وصف نہ ہوں تو پھر ایسا ہوکہ پیشانی پر سفید داغ،پاؤں سفید اور سیدھا ہاتھ یا سیدھا پاؤں غیر سفید۔محجل وہ گھوڑا ہے جس کے ہاتھ پاؤں سفید ہوں کم یا زیادہ بشرطیکہ گھٹنوں تک سفیدی نہ ہو اس سے کم ہو۔
۳؎ یعنی اگر سیاہ گھوڑے میں یہ اوصاف جمع نہ ہوں تو سرخ گھوڑا ہی اچھا ہے جس میں مذکورہ اوصاف ہوں۔کمیت وہ گھوڑا ہے جس کی دم سیاہ باقی جسم سرخ ہو مگر سرخ کو بھی کمیت کہتے ہیں نر ہو یا مادہ یہ لفظ دونوں پر بولا جاتا ہے،شیہ کے معنی رنگ بھی ہیں اور علامت بھی،رب تعالٰی فرماتاہے"لَاشِیَۃَ فِیۡہَا"۔