۱؎ آپ کے حالات بار بار بیان ہوچکے،آپ وہ ہی صحابی ہیں جو تیس سال بیمار رہے اور اس بیماری پر صابر و شاکر رہے،آپ کو فرشتے سلام کرتے تھے۔
۲؎ یعنی گھوڑ دوڑ میں دونوں فریق یا ایک فریق نہ جلب کرے نہ جنب یہ دونوں لفظ کتاب الزکوۃ میں گزر چکے ہیں مگر وہاں ان کے اور معنی تھے یہاں جلب کے معنی ہیں اپنے گھوڑے کے ساتھ دوسرے گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑنا اور شور مچا کر ڈانٹ کر اس دوڑ والے گھوڑے کو تیز کرنا۔اور جنب کے معنی ہیں اس دوڑنے والے گھوڑے کے ساتھ اور گھوڑا رکھنا اگر راہ میں وہ گھوڑا تھک جائے تو اس دوسرے کو بازی میں لگادیا جائے۔چاہیے یہ کہ دوڑ کی حالت میں گھوڑوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے وہ خود اپنی مرضی و طاقت سے دوڑیں جو آگے نکل جائے وہ جیتے۔لفظ فی الرھان یا تو حضور انور کا ہی فرمان عالی ہے یا کسی راوی کا ہے جو حدیث کی تفسیر کے لیے بولا گیا یعنی جلب اور جنب گھوڑ دوڑ میں ممنوع ہے اور جگہ نہیں۔
۴؎ ترمذی نے وہاں زیادتی یہ فرمائی ہے ولاشغار فی الاسلام ومن انتھب نھبۃ فلیس منا یعنی اسلام میں شغار(مقابلہ کا نکاح بغیر مہر)نہیں اور جو لوٹ مچائے وہ ہم میں سے نہیں،یہ حدیث نسائی نے بھی بروایت حضرت انس نقل فرمائی۔