| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم |
روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکو ع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم قبیلہ اسلم کی ایک قوم پر تشریف لائے جو بازار میں تیر اندازی کررہی تھی۲؎ تو فرمایا اے بنی اسماعیل تیر چلاؤ کیونکہ تمہارے والد تیر انداز تھے اور میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں(دو فریق میں سے ایک کے لیے)تو انہوں نے اپنے ہاتھ روک لیے۴؎ فرمایا تمہیں کیا ہوا وہ بولے ہم کیسے تیر اندازی کریں آپ فلاں قبیلہ والوں کے ساتھ ہوگئے ۵؎ فرمایا تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں۶؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ سلمی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،بہت ہی بڑے بہادر اور پیادہ لڑنے والوں کے امام تھے،تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے،آپ ہی سے بھیڑیئے نے کلام کیا تھا،اسی برس عمر پائی ۴۷ھ میں وفات ہوئی،جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔ ۲؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں سوق سے مراد ایک خاص جگہ ہے جو مدینہ منورہ میں تھی،بعض نے فرمایا کہ سوق ساق کی جمع ہے بمعنی پیادہ یعنی وہ لوگ پیدل تیر اندازی کرتے تھے ظاہر بھی یہ ہی ہے کیونکہ بازار میں تیر اندازی مشکل ہے وہاں لوگوں کا مجمع ہوتا ہے۔ ۳؎ یعنی اسماعیل علیہ السلام تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے تم ان کی اولاد ہو تم بھی اس میں کمال پیدا کرو تمہارے باپ کی میراث ہے۔ ۴؎ یعنی یہ فرمان عالی سن کر دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کردی۔ ۵؎ یعنی حضور آپ تو ان دوسروں کے ساتھ ہوگئے ہم بے سہارا رہ گئے پھر ہم کس کے بل بوتے پر تیر اندازی کریں یہ عرض معروض اس دوسرے فریق نے کی۔ ۵؎ یعنی ہم تمہارے دونوں فریقوں کے معاون اور مددگار ہیں یہ معیت سے مراد لی ہے۔