۱؎ حضرت طلحہ کا نام زید ابن سہل ہے،انصاری خزرجی بخاری ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے، حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،حضور فرماتے تھے کہ لشکر اسلام میں اکیلے ابوطلحہ کی صرف آواز ایک سو سپاہیوں سے بڑھ کر ہے،آپ نے غزوہ حنین میں بیس کفار کو اکیلے قتل کیا اور ان کے سامان پر قبضہ کیا ،آپ کے حالات پہلے بھی بیان ہوچکے ہیں،بصرہ میں آپ کا مزار ہے،فقیر نے زیارت کی ہے۔
۲؎ یعنی حضرت ابوطلحہ جہاد کے موقعوں پر حضور انور کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ڈھال اس طرح لیتے تھے کہ خود ابوطلحہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس کی آڑ میں ہوجاتے تھے اس قدر قرب تھا آپ کو حضور انور کے ساتھ۔(اشعہ و مرقات) بعض غزوات میں خود اپنے جسم کو حضور کی ڈھال بنادیا۔
۳؎ یعنی حضرت ابوطلحہ کا تیر اتنی دور جاتا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم اس کے گرنے کی جگہ کو اچک کر ملاحظہ فرماتے یہ ملاحظہ فرمانا اگر عام حالات میں تھا تو گرنے کی جگہ دیکھتے تھے۔اگر جہاد کی حالت میں تھا تو یہ دیکھتے تھے کہ اس تیر نے کتنے کفار مارے کیونکہ حضرت ابوطلحہ کا تیر خالی نہ جاتا تھا نشانہ پر ضرور لگتا تھا، بڑے خوش نصیب تھے رضی اللہ عنہ۔